کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 52
گوشت ہے،جو اس نے اپنے گھر والوں کو دیا۔اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ ۳: نمازِ عید سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرنے والے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے،کہ وہ نماز کے بعد ایک دوسرا جانور قربانی کے لیے ذبح کرے۔امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ارشاد فرمایا: مَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاۃِ فَلْیُعِدْ۔‘‘[1] ’’جس نے نماز[عید]سے پہلے ذبح کیا،وہ دوبارہ[ذبح]کرے۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں ہے،جسے امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:’’میں عید الاضحی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا،جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا چکے،تو دیکھا،کہ ایک بکری ذبح کی ہوئی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاۃِ فَلْیَذْبَحْ شَاۃً مَّکَانَہَا،وَمَنْ لَمْ یَکُنْ ذَبَحَ فَلْیَذْبَحْ عَلٰی اسْمِ اللّٰہِ۔‘‘[2] ’’جس نے نمازِ عید سے پہلے[قربانی کا جانور]ذبح کیا،وہ[اب]اس کے بدلے میں دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے[نماز سے پہلے] [1] متفق علیہ:صحیح البخاري،کتاب الأضاحي،باب ما یُشتَہی من اللحم یوم النحر،جزء من رقم الحدیث ۵۵۴۹،۱۰؍۶؛ وصحیح مسلم،کتاب الأضاحی،باب وقتہا،جزء من رقم الحدیث ۱۱۔(۱۹۶۲)،۳؍۱۵۵۵۔الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔ [2] متفق علیہ:صحیح البخاری،کتاب الأضاحي،باب من ذبح قبل الصلاۃ أعاد،رقم الحدیث ۵۵۶۲،۱۰؍۲۰؛ وصحیح مسلم،کتاب الأضاحي،باب وقتہا،رقم الحدیث ۲۔(۱۹۶۰)،۳؍۱۵۵۱۔الفاظِ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔