کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 50
۱: آیت کریمہ سے یہ مقصود نہیں،کہ دن کو ہی ذبح کرو اور رات کو ذبح نہ کرو،بلکہ مراد یہ ہے،کہ ان متعین دنوں میں بشمول ان کی راتوں کے ذبح کرو۔اس کی مثال اس طرح ہے،کہ اگر کوئی شخص اس بات پر قسم کھائے کہ ’’میں فلاں شخص سے تین دن گفتگو نہیں کروں گا،‘‘ تو اس سے مقصود یہ تو نہیں ہوتا،کہ وہ دن کے اجالے میں،تو گفتگو نہیں کرے گا اور رات کی تاریکی میں کرے گا،بلکہ مقصود یہ ہوتا ہے،کہ وہ ان تین دنوں میں ان کی راتوں سمیت اس شخص سے گفتگو نہیں کرے گا۔[1] ۲: جہاں تک حدیث سے استدلال کا تعلق ہے،اگر یہ حدیث ثابت ہوتی،تو اس بارے میں حرفِ آخر تھی،لیکن یہ حدیث بالکل ثابت نہیں۔[2] خلاصۂ کلام یہ ہے،کہ نماز عید اور خطبہ عید کے بعد سے لے کر چوتھے دن غروب آفتاب تک،کسی وقت بھی قربانی کے جانوروں کا ذبح کرنا درست ہے۔ تنبیہ:محتاجوں اور مسکینوں کو گوشت سے محروم کرنے کی خاطر رات کو ذبح کرنا ناپسندیدہ حرکت ہے۔ (۱۰) قربانی کا نمازِ عید کے بعد کرنا قربانی کے وقت کی ابتدا نماز عید کے بعد ہوتی ہے۔ذیل میں اس کے متعلق [1] ملاحظہ ہو:المحلّی ۸؍۴۸۔ [2] حافظ ہیثمی نے تحریر کیا ہے:’’اسے طبرانی نے[المعجم]الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس میں سلیمان بن ابی سلمہ جنابزی ہے اور وہ متروک ہے۔‘‘(مجمع الزوائد ۴؍۲۳) اور[متروک]اس راوی کو کہتے ہیں،جس کا عام گفتگو میں جھوٹ بولنا ثابت ہو اور ایسے راوی کی بیان کردہ روایت مردود ہوتی ہے۔(ملاحظہ ہو:التلخیص الحبیر ۴؍۱۴۲؛ والمحلّی ۸؍۴۸)۔