کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 49
(۹) رات کے وقت ذبح کرنا مذکورہ بالا چار دنوں میں نماز عید اور خطبہ عید کے بعد سے لے کر آخری دن غروب آفتاب تک،جب بھی چاہے،ذبح کرسکتا ہے۔بعض علمائے امت نے ان دنوں کی راتوں میں ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے اور اس بارے میں درج ذیل دو دلیلیں پیش کی ہیں: ۱: سورۃ الحج میں ہے: {وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِّنْ بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ} [1] [اور ہم نے جو پالتو چارپائے ان کے لیے مہیا کردیے ہیں،ان کی قربانی کرتے ہوئے مقررہ دنوں میں اللہ تعالیٰ کا نام لیں]۔ اس آیت کریمہ سے ان کا استدلال یہ ہے،کہ اللہ تعالیٰ نے مقررہ دنوں میں قربانی کا ذکر فرمایا ہے،ان کی راتوں میں نہیں۔‘‘[2] ۲: حدیث شریف میں ہے،کہ: ’’نَھَی النَّبِيُّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَنِ الذِبْحِ بِاللَّیْلِ۔‘‘[3] ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو ذبح کرنے سے منع فرمایا۔‘‘ لیکن ان دونوں دلیلوں سے استدلال---واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب---درست نہیں،کیونکہ: [1] الآیۃ ۲۸۔ [2] ملاحظہ ہو:المغني ۱۳؍۳۸۷۔ [3] ملاحظہ ہو:مجمع الزوائد،کتاب الأضاحي،باب النھي عن التضحیۃ باللیل،۴؍۲۳۔