کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 48
’’تشریق کے سب دنوں میں[قربانی کا جانور]ذبح[کرنا درست]ہے۔‘‘ اور عید الاضحی کے بعد تشریق تین دن ہیں۔[1] اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے،کہ قربانی کے چار دن ہیں،ایک دن عیدالاضحی کا اور تین دن اس کے بعد۔ اس بارے میں علمائے امت کے دیگر اقوال بھی ہیں۔علامہ شوکانی نے پانچ اقوال نقل کیے ہیں،لیکن مذکورہ بالا حدیث کی بنا پر راجح بات یہی ہے،کہ قربانی کے چار دن ہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم۔سعودی عرب کی مجلسِ دائمی برائے علمی تحقیقات اور افتاء نے اس بارے میں اپنے فتویٰ میں تحریر کیا ہے: ’’أَیَّامُ الذِبْحِ لِہَدْيِ التَمَتُّعِ وَالْقِرانِ وَالْاُضْحِیَّۃِ أَرْبَعَۃُ أَیَّام:یَوْمُ الْعِیْدِ وَثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ بَعْدَہُ،وَیَنْتَھِيْ الذِبْحُ بِغُرُوْبِ شَمْسِ الْیَوْمِ الرَابِعِ فِيْ أَصَحِّ أَقْوَالِ أَہْلِ الْعِلْمِ۔‘‘[2] ’’اہل علم کے سب سے صحیح قول کے مطابق(حج) تمتع،قِران اور عید کی قربانی کے چار دن ہیں،ایک دن عید کا،اور تین دن اس کے بعد۔قربانی کے وقت کا اختتام چوتھے دن غروب آفتاب کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘ [1] ملاحظہ ہو:نیل الاوطار ۵؍۲۱۶؛ نیز ملاحظہ ہو:المجموع ۸؍۲۸۹۔ [2] فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والإفتاء ۱۱؍۴۰۶۔