کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 47
کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم یُضَحِّي بِکَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِیْلٍ،یَنْظُرُ فِي سَوَادٍ،وَیَأْکُلُ فِيْ سَوَادٍ،وَیَمْشِيْ فِي سَوَادٍ۔‘‘[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگوں والے،غیر خصی مینڈھے کی قربانی کیا کرتے تھے[اور]اس کی آنکھیں،منہ اور ہاتھ پاؤں سیاہ ہوتے تھے۔‘‘ علامہ سندھی اس حدیث کی شرح میں تحریر کرتے ہیں،کہ ’’اس روایت میں اور وہ روایت،جو اس کے بظاہر خلاف ہے،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی جانور کی قربانی دی،ان دونوں میں حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں،کیونکہ دونوں قسم کے جانوروں کو الگ الگ وقت میں قربانی کی غرض سے ذبح کیا گیا۔‘‘[2] (۸) قربانی کے دن حضرات ائمہ احمد،ابن حبان اور طبرانی نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’وَفِيْ کُلِّ أَیَّامِ التَشْرِیْقِ ذِبْحٌ۔‘‘[3] [1] سنن أبي داود،کتاب الضحایا،باب ما یستحب من الضحایا،رقم الحدیث ۲۷۹۳،۷؍۳۵۲؛ وسنن الترمذي،أبواب الأضاحي،باب ما یستحب من الأضاحي،رقم الحدیث ۱۵۲۹،۵؍۶۶۔۶۷؛ وسنن النسائي،کتاب الضحایا،الکبش ۷؍۲۲۰۔۲۲۱؛ وسنن ابن ماجہ،أبواب الأضاحي،ما یستحب من الأضاحي،رقم الحدیث ۳۱۶۶،۲؍۲۰۴۔الفاظِ حدیث سنن ابی داؤد کے ہیں۔شیخ البانی نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن أبی داود ۲؍۵۳۸؛ وصحیح سنن الترمذی ۷؍۸۸)۔ [2] حاشیۃ السندي علی سنن النسائي ۷؍۲۲۱۔ [3] المسند،جزء من رقم الحدیث ۱۶۷۵۱،۲۷؍۳۱۶؛ والإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان،کتاب الحج،باب الوقوف بعرفۃ والمزدلفۃ والدفع منہا،ذکر وقوف الحجاج بعرفات والمزدلفۃ،جزء من رقم الحدیث ۳۸۵۴،۹؍۱۶۶۔حافظ ہیثمی نے تحریر کیا ہے:’’احمد اور طبرانی نے اسے اوسط میں روایت کیا ہے اور احمد وغیرہ کی سند کے راوی[ثقہ]ہیں۔‘‘(مجمع الزوائد ۴؍۲۵)۔حافظ ابن حجر نے لکھا ہے:’’احمد نے اسے روایت کیا ہے،لیکن اس[کی سند]میں انقطاع ہے۔دار قطنی نے موصول روایت کیا ہے اور اس کے راوی[ثقہ]ہیں۔‘‘(فتح الباري ۱؍۸)۔شیخ شعیب ارناؤط اور ان کے رفقاء نے اسے[صحیح لغیرہ]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:ہامش المسند ۲۷؍۳۱۶)۔