کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 45
انہوں نے عرض کیا:’’میرے پاس بکری کا دو دانت والے سے کم عمر کا پالتو بچہ ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم تو اسی کی قربانی کرلو،لیکن کسی اور کے لیے ایسا کرنا درست نہیں۔‘‘ حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: ’’وَلَیْسَتْ فِیْہَا رُخْصَۃٌ لِأَحَدٍ بَعْدَکَ۔‘‘[1] ’’تیرے بعد کسی اور کے لیے اس[یعنی بکری کے دو دانت سے کم عمر کے بچے کو بطور قربانی ذبح کرنے]کی رخصت نہیں۔‘‘ ۵: بھیڑ کے دو دانت سے کم عمر والے جس بچے[جذع]کو بطور قربانی ذبح کرنے کی اجازت ہے،اس کی عمر کتنی ہوگی؟اس بارے میں مختلف آراء ہیں۔بعض علماء نے ایک سال مدت بتلائی ہے،بعض نے چھ ماہ،بعض نے سات ماہ اور بعض نے ان سے مختلف دیگر آراء پیش کی ہیں۔امام نووی فرماتے ہیں: ’’ثُمَّ الْجَذَعُ مَا اسْتَکْمَلَ سَنَۃً عَلَی أَصَحِّ الْأَوْجُہ۔‘‘[2] ’’جذع کی عمر کے بارے میں سب سے زیادہ درست بات یہ ہے،کہ اس کی عمر ایک سال پوری ہوچکی ہو۔‘‘ حافظ ابن حجر[جذع]کی عمر کے بارے میں رقم طراز ہیں: ’’فَمِنَ الضَّأْنِ مَا أَکْمَلَ السَّنَّۃَ،وَہُوَ قَوْلُ الْجَمْہُوْر۔‘‘[3] ’’جمہور کے قول کے مطابق بھیڑ میں سے[جذع]وہ ہے،جس نے اپنی [1] منقول از:فتح الباري ۱۰؍۱۴۔ [2] کتاب المجموع ۸؍۲۹۳۔ [3] فتح الباري ۱۰؍۵۔