کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 43
’’یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جہاں دو دانت والا جانور کافی ہے،وہاں دو دانت سے کم عمر والا بھیڑ کا بچہ بھی کافی ہے۔‘‘ ج:امام احمد نے حضرت اُمّ بلال رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے،کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ضَحُّوْا بِالْجَذَعِ مِنَ الضَّأنِ فَإِنَّہ جَائِزٌ۔‘‘[1] ’’بھیڑ کے دو دانت سے کم عمر والے بچے[جذع]کی قربانی کرو،کیونکہ وہ[یعنی اس کی قربانی]جائز ہے۔‘‘ مذکورہ بالا تینوں احادیث شریفہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے،کہ عام حالات میں بھی جب کہ دو دانت والے جانور کا ملنا دشوار یا مشکل نہ ہو،دو دانت سے کم عمر والے بھیڑ کے بچے[جو کہ جذع ہو]کی قربانی کرنا درست ہے۔ ۳: مذکورہ بالا احادیث شریفہ کی بنا پر جمہور علمائے امت کی رائے میں نمبر(۱) میں بیان کردہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مراد یہ ہے،کہ دو دانت والے جانور کی قربانی کرنا افضل ہے۔حافظ ابن حجر اس بارے میں رقم طراز ہیں: ’’نَقَلَ النَوَوِیُ عَنِ الْجَمْہُوْرِ أَنَّہُمْ حَمَلُوْہُ عَلَی الْاَفْضَل،وَالتَّقْدِیْرُ:یُسْتَحَبُّ لَکُمْ أَنْ لَّا تَذْبَحُوْا إِلَّا مُسِنَّۃً،فَإِنْ عَجَزْتُمْ فَاَذْبَحُوْا جَذَعَۃً مِنَ الضَّأْنِ۔‘‘[2] [1] الفتح الرباني فی ترتیب مسند الإمام أحمد،أبواب الأضحیۃ،باب السنّ الذي یجزیء في الأضحیۃ،۱۳؍۷۴۔حافظ ہیثمی نے تحریر کیا ہے:’’اسے احمد اور طبرانی نے[المعجم]الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کے راوی[ثقہ]ہیں۔‘‘(مجمع الزوائد ۴؍۱۹)۔ [2] فتح الباری ۱۰؍۱۵؛ نیز ملاحظہ ہو:کتاب المجموع ۸؍۲۹۴۔۲۹۵،اسی بات کو علامہ شوکانی،شیخ عظیم آبادی،شیخ مبارکپوری اور شیخ احمد البنا نے پسند کیا ہے۔(ملاحظہ ہو:نیل الأوطار ۵؍۲۰۴؛ وعون المعبود ۷؍۔۳۵۵؛ وتحفۃ الأحوذي ۵؍۷۱؛ وبلوغ الأماني ۱۳؍۷۲)۔