کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 42
کی حالت میں دو دانت سے کم عمر والا بھیڑ دنبے کا بچہ بطور قربانی ذبح کیا جاسکتا ہے،البتہ سوال یہ ہے،کہ آیا عام حالات میں ایسے کم عمر والے جانور کی قربانی جائز ہے؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کی غرض سے ذیل میں تین احادیث شریفہ درج کی جارہی ہیں: ا:امام نسائی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا: ’’ضَحَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ۔‘‘[1] ’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو دانتوں سے کم عمر والے دنبہ کی قربانی دی۔‘‘ ب:امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے حضرت کلیب سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا:’’ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے ہمراہ تھے،جو بنو سُلَیْم میں سے تھے اور جنہیں مجاشع رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا،بکریوں کی قلت ہوئی،تو انہوں نے ایک منادی والے کو حکم دیا،تو اس نے اعلان کیا: ’’أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم کَانَ یَقُوْلُ:’’إِنَّ الْجَذَعَ یُوَفِّي مِمَّا یُوَفَّی مِنْہُ الثَنِيُّ۔‘‘[2] [1] سنن النسائي،کتاب الضحایا،المسنۃ والجذعۃ،۷؍۲۱۹۔حافظ ابن حجر نے اس کی[سند کو قوی]قرار دیا ہے۔(فتح الباری ۱۰؍۱۵)،شیخ البانی نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:سنن النسائی ۳؍۹۱۵)۔ [2] سنن أبی داود،کتاب الضحایا،باب ما یجوز في الضحایا من السِنّ،رقم الحدیث ۲۷۹۶،۲؍۲۰۶؛ وسنن ابن ماجہ،أبواب الأضاحي،ما تجزیء فی الأضاحي،رقم الحدیث۳۱۷۸،۲؍۳۰۶۔الفاظِ حدیث سنن ابی داؤد کے ہیں۔شیخ البانی نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن أبي داود ۲؍۵۳۸؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۲؍۲۰۲)۔