کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 40
’’ہٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ لَوْ ضَحَّی عَمَّنْ مَاتَ جَازَ۔‘‘[1] ’’یہ اس بات کی دلیل ہے،کہ اگر کوئی شخص میت کی طرف سے قربانی کرے گا،تو ایسا کرنا جائز ہوگا۔‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اس بارے میں رقم طراز ہیں: ’’وَتَجُوْزُ الْأُضْحِیَّۃُ عَنِ الْمَیِّتِ،کَمَا یَجُوْزُ الْحَجُّ عَنْہُ،وَالصَّدَقَۃُ عَنْہُ،وَیُضَحِّيِ عَنْہُ فِي الْبَیْتِ،وَلَا یُذْبَحُ عِنْدَ الْقَبْرِ أُضْحِیَّۃٌ وَلَا غَیْرُہَا۔‘‘[2] ’’جس طرح میت کی طرف سے حج اور صدقہ کرنا جائز ہے،اسی طرح اس کی طرف سے قربانی کرنا درست ہے۔میت کی طرف سے قربانی گھر میں کی جائے گی۔اس کی قبر پر نہ تو قربانی کا جانور ذبح کرنا جائز ہے اور نہ ہی کوئی اور جانور۔‘‘ بعض علمائے امت میت کی طرف سے مستقل قربانی کرنے کودرست نہیں سمجھتے۔انہوں نے مذکورہ بالا حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔[3] میت کی طرف سے قربانی کے جواز کے متعلق مذکورہ بالا حدیث سے استدلال کرنے والے حضرات کا موقف یہ ہے،کہ یہ حدیث ثابت ہے۔امام حاکم نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔[4] حافظ ذہبی نے ان کی تائید کی ہے۔[5]مشہور مصری محدث [1] شرح الطیبی ۴؍۱۳۰۴؛ نیز ملاحظہ ہو:مرقاۃ المفاتیح ۳؍۵۶۹۔ [2] مجموع الفتاویٰ ۲۶؍۳۰۶۔ [3] ملاحظہ ہو:تحفۃ الأحوذي ۵؍۶۵؛ وہامش مشکاۃ المصابیح ۱؍۴۶۰؛ وضعیف سنن أبی داود ص ۲۷۳؛ وہامش المسند للشیخ شعیب الأرناؤوط وزملائہ ۲؍۲۰۶۔ [4] ملاحظہ ہو:المستدرک علی الصحیحین،کتاب الأضاحي ۴؍۲۳۰۔ [5] ملاحظہ ہو:التلخیص ۴؍۲۳۰۔