کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 38
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا: ’’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم إِذَا ضَحَّی اِشْتَرَی کَبْشَیْنِ سَمِیْنَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ،فَإِذَا صَلّٰی وَخَطَبَ أُتِیَ بِأَحَدِہِمَا،وَہُوَ فِيْ مُصَلَّاہ،فَذَبَحَہُ،ثُمَّ قَالَ: ’’اَللّٰہُمَّ ہٰذَا عَنْ أُمَّتِيْ جَمِیْعًا مَنْ شَہِدَ لَکَ بِالتَّوْحِیْدِ،وَشَہِدَلِيْ بِالْبَلَاغِ۔‘‘ ثُمَّ یُؤْتَی بِالْآخَر،فَیَذْبَحُہُ،ثُمَّ قَالَ: ’’اَللّٰہُمَّ ہٰذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّد صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔‘‘ فَیُطْعِمُہُمَا جَمِیْعًا الْمَسَاکِیْنَ،وَیَأْکُلُ ہُوَ وَأَہْلُہُ مِنْہُمَا۔‘‘[1] ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی(کا ارادہ) فرماتے،تو دو فربہ سینگوں والے،چت کبرے مینڈھے خریدتے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز اور خطبہ سے فارغ ہوجاتے،تو عید گاہ ہی میں ان دونوں میں سے ایک مینڈھے کو لایا جاتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ذبح کرتے اور(ذبح کرتے وقت) کہتے: ’’اے اللہ!یہ میری امت کے ان سب لوگوں کی طرف سے ہے،جنہوں نے آپ کی توحید کی گواہی دی اور میرے پیغام(الٰہی) پہنچانے کی شہادت دی۔‘‘ پھر دوسرے کو لایا جاتا،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ذبح کرتے اور(ذبح کرتے وقت) کہتے: ’’اے اللہ!یہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔‘‘ [1] منقول از:مجمع الزوائد،کتاب الأضاحی،باب أضحیۃ رسول اللّٰهِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم،۴؍۲۱۔۲۲۔حافظ ہیثمی تحریر کرتے ہیں:’’اسے بزار نے روایت کیا ہے،احمد اور طبرانی نے بھی قریباً اسی طرح اسے روایت کیا ہے اور احمد اور بزار کی سند[حسن]ہے۔‘‘(المرجع السابق ۴؍۲۲)۔