کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 35
[مسافر اور عورت کے لیے قربانی کے متعلق باب] حافظ ابن حجر تحریر کرتے ہیں،کہ اس حدیث سے یہ بات واضح ہورہی ہے،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گائے کو ذبح کرنا عید الاضحی کی قربانی کے لیے تھا۔[1] ۳: امام ترمذی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا: ’’کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم فِي سَفَرٍ،فَحَضَرَ الْأَضْحَی،فَاشْتَرَکْنَا فِي الْبَقَرَۃِ سَبْعَۃٌ،وَفِي الْبَعِیْرِ عَشَرَۃٌ۔‘‘[2] ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے،تو عید الاضحی آگئی،تو ہم سات آدمی گائے کی قربانی میں،اور دس آدمی اونٹ کی قربانی میں شریک ہوئے۔‘‘ اس حدیث شریف سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے،کہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں سفر میں قربانی کی۔ (۴)میت کو قربانی میں شریک کرنا اس بارے میں توفیقِ الٰہی سے دو باتیں پیش کی جارہی ہیں: ا: میت کو قربانی میں شریک کرنا درست ہے۔اس پر دلالت کرنے والی احادیث شریفہ میں سے دو درج ذیل ہیں: ۱:امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے: ’’أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم اَمَرَ بِکَبْشٍ اَقْرَنَ یَطَأُ فِی سَوَادٍ،وَیَبْرُکُ [1] ملاحظہ ہو:فتح الباری ۱۰؍۵۔ [2] جامع الترمذي،أبواب الأضاحي،باب فی الاشتراک فی الأضحیۃ،رقم الحدیث ۱۵۳۷،۵؍۷۲۔شیخ البانی نے اسے[صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن الترمذی ۲؍۸۹)۔