کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 32
فَلَقِیْتُ سَعِیْدَ بْنَ الْمُسَیّبَ،فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ،فَقَالَ:’’یَا ابْنَ أَخِیْ!ہٰذَا حَدِیْثٌ قَدْ نُسِیَ،وَتُرِکَ،حَدَّثَتْنِيْ أُمُّ سَلَمَۃَ رضی اللّٰهُ عنہا،زَوْجُ النَّبِيِّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔‘‘[1] ’’ہم عید الاضحی سے پہلے ایک حمام میں تھے،تو کچھ لوگوں نے زیرِ ناف بال مونڈے۔حمام والوں میں سے بعض لوگوں نے کہا:’’سعید بن مسیَّب اس کو ناپسند کرتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں۔‘‘ میری سعید بن مسیب سے ملاقات ہوئی،تو میں نے اس[واقعہ]کا ان سے ذکر کیا،تو فرمانے لگے:’’اے بھتیجے!اس حدیث کو بھلایا جاچکا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا چھوڑ دیا گیا ہے۔یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کی۔‘‘ ۶: اگر قربانی کا ارادہ کرنے والا ان دس دنوں میں اپنے بالوں یا ناخنوں کو کاٹ لے،تو اس پر کوئی فدیہ نہیں،البتہ عمداً کاٹنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرے،کیونکہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرکے گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔امام ابن قدامہ نے تحریر کیا ہے،کہ:’’اگر وہ ایسا کرے[بال یا ناخن تراش لے]،تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور اس پر کوئی فدیہ نہیں،خواہ اس نے عمداً کیا ہو یا بھول کر۔‘‘[2] [1] صحیح مسلم،کتاب الأضاحي،باب نھي من دخل علیہ عشر ذی الحجۃ وہو مرید التضحیۃ،أن یأخذ من شعرہ أو أظفارہ شیئًا،جزء من رقم الروایۃ(۱۹۷۷)،۳؍۱۵۶۶۔ [2] المغني ۱۳؍۳۶۲۔