کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 31
’’خراسان میں یحییٰ بن یعمر فتویٰ دیا کرتے تھے کہ:’’جو شخص قربانی کا جانور خرید لے اور ذوالحجہ کا عشرہ داخل ہوجائے،تو پھر وہ قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں سے باز رہے۔‘‘ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے،کہ انہوں نے یہ بات سعید بن مسیب کو بتلائی،تو انہوں نے فرمایا:’’ہاں‘‘[مسئلہ ایسے ہی ہے]۔ میں[قتادہ]نے کہا:’’ابومحمد!انہوں نے یہ فتویٰ کس سے لیا؟‘‘ انہوں نے جواب میں فرمایا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے۔‘‘ ۴: امام ابن حزم نے سلیمان تیمی سے نقل کیا ہے،کہ انہوں نے بیان کیا: ’’کَانَ ابْنُ سِیْرِیْنَ یَکْرَہُ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَنْ یَأْخُذَ الرَّجُلُ مِنْ شَعْرِہِ،حَتَّی یَکْرَہَ أَنْ یَحْلِقَ الصِبْیَانُ فِی الْعَشْرِ۔‘‘[1] ’’ابن سیرین نے اس بات کو مکروہ قرار دیا،کہ کوئی شخص عشرہ ذوالحجہ شروع ہونے کے بعد اپنے بالوں کو لے[مونڈے یا تراشے]،بلکہ انہوں نے،تو اس عشرہ کے دوران بچوں کے سر کو منڈانا بھی ناپسند کیا۔‘‘ ۵: حضرت سعید بن مسیَّب بھی عشرہ ذوالحجہ داخل ہونے کے بعد زیرِ ناف بالوں کے مونڈنے کو مکروہ قرار دیتے اور اس سے منع فرماتے۔امام مسلم نے عمرو بن مسلم لیثی سے روایت کی ہے،کہ انہوں نے کہا: ’’کُنَّا فِی الْحَمَّامِ قُبَیْلَ الْأَضْحٰی،فَأَطْلٰی فِیْہِ نَاسٌ،فَقَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْحَمَّامِ:’’إِنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْمُسَیّبِ یَکْرَہُ ہٰذَا،أَوْ یَنْہٰی عَنْہُ۔‘‘ [1] المحلّی،مسألۃ ۹۷۶،۸؍۲۹۔