کتاب: مسائل قربانی - صفحہ 24
’’اور[ابراہیم علیہ السلام نے]کہا]’’میں تو[ہجرت کرکے]اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں،وہ ضرور میری رہنمائی کریں گے۔’’اے میرے رب!مجھے نیک بخت اولاد عطا فرئیے۔‘‘ تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔جب وہ[بچہ]اس کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا،تو اس[ابراہیم علیہ السلام]نے کہا:’’اے میرے چھوٹے سے بیٹے!میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں،اب تو بتا کہ تیری رائے کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا:’’اے میرے باپ!آپ کو جو حکم دیا گیا ہے،اس کو بجالائیے۔ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ جب وہ دونوں مطیع ہوگئے[یعنی حکمِ الٰہی کی تعمیل کے لیے مستعد ہوگئے]اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کی ایک جانب گرایا،تو ہم نے اسے آواز دی:’’اے ابراہیم!یقینا تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا۔بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔‘‘ درحقیقت یہ بہت بڑی آزمائش تھی اور ہم نے اس[اسماعیل علیہ السلام]کے بدلے میں بہت بڑی قربانی دے دی۔اور تمام آنے والے لوگوں میں اسی[عظیم واقعہ]کا ذکر قائم کردیا۔‘‘ ب:اہمیتِ قربانی کے متعلق بعض دیگر دلائل: قربانی کی اس سنتِ ابراہیم علیہ السلام کی اہمیت پر قرآن و سنت کی متعدد نصوص اور حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے واقعات دلالت کرتے ہیں۔مولائے کریم کی توفیق سے ان میں سے چند ایک ذیل میں پیش کئے جارہے ہیں: ۱: اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کرنے کا حکم دیا۔ارشاد فرمایا: {فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ}[1] [1] سورۃ الکوثر ؍ الآیۃ ۲۔