کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 36
نصب الرایہ وغیرہ کی روایت میں اس کی وضاحت موجود ہے اور خطیب تو جمعہ پڑھانے کے لیے ہوتا ہے پس جمعہ کی نماز عورتوں پر فرض نہیں جیساکہ آگے کے جواب سے معلوم ہوجائے گا۔اگر جمعہ پڑھنے کے لیے عورتیں جانا چاہیں تو جامع مسجد کا جو خطیب ہوگا اس کا خطبہ سن کر اسی کے پیچھے نماز پڑھ لیں ۔پس ان کے لیے الگ خطیب کی ضرورت ہی نہیں ۔ 4،3 مذکورہ حدیث سے واضح ہوا کہ عورتوں کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بوڑھا شخص مؤذّن مقرر کیا لیکن ان کو خود آذان کہنے کا حکم نہیں دیا۔ہاں اگر کوئی عورت عورتوں کی مخصوص جماعت کے لیے آذان واقامت کہہ دے تو اس کا بھی جواز ہے۔جیساکہ امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ وغیرہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے کہ وہ عورتوں کی جماعت کراتیں اور اذان واقامت بھی کہتی تھیں ۔[1] 5 آپ نے جو یہ لکھا ہے کہ عورتوں کو مردوں کی امامت کی اجازت ہونی چاہیے۔یہ اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی نہیں دی ۔صرف عورتوں کو مردوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے،پس ہمیں یہ اختیار نہیں کہ ہم عورتوں کو مردوں کے لیے امام بنادیں ۔ 6 آپ کا یہ کہنا کہ مردوں کی طرح عورت کو بھی آگے ہوکر امامت کرانی چاہیے۔پیارے بھائی! اللہ سے ڈریں ،یہ تو آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کررہے ہیں ،کیونکہ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ مرد امام آگے کھڑا ہوگا،لیکن عورت عورتوں کی امامت کراتے وقت صف کے درمیان میں کھڑی ہو۔اب آپ یہ کہنے کی جرأت کیسے کرسکتے ہیں کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ عورت کو امامت کراتے وقت آگے کھڑاہونا چاہیے۔ 7 آپ کا یہ کہنا کہ عورت کو جماعت میں مردوں کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنی چاہیے۔یہ بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اعتراض کرنا ہے۔کیونکہ یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کہ [1] نصب الرایہ، ص:۳۰