کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 35
اہلِ حدیث کے گیارہ جواباب: ہمارے نزدیک مردوعورت کی نماز کی ہیئت،کیفیّت اور طریقۂ ادا میں کوئی فرق نہیں ہے۔اور(بوکھلاہٹ کے نتیجہ میں موضوع سے غیر متعلقہ) جو اعتراضات آپ نے تحریر کیے ہیں ان کا ترتیب وار جواب اور حقیقت ملاحظہ ہو: 1 آپ نے عورتوں کے لیے الگ مسجد بنانے کو کہا ہے حالانکہ عورتوں کی نماز مسجد کی بجائے گھر میں زیادہ افضل ہے،بخلاف مردوں کے کہ اُن کے لیے مسجدمیں آنا ضروری ہے۔اب یہ فرق ہم اپنی طرف سے نہیں کررہے ہیں بلکہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرق بیان کیا ہے جیساکہ پہلے میں نے صحیح مسلم اور ابوداؤدکے حوالے سے بیان کیاہے۔پس یہ مداخلت فی الدّین نہیں ،مداخلت فی الدّین تب ہوتی جب ہم اپنی طرف سے فرق بنادیتے،بغیر کسی دلیلِ شرعی کے۔ ہاں اگر عورتیں کسی محفوظ جگہ گھروں میں آپس میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا چاہیں تو اس کی اجازت شریعت نے دی ہے۔جیسا کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا والی حدیث روایت کی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک مؤذّن مقرر کیا تھا جو ان کے لیے آذان کہاکرے اور ان کو حکم دیا تھا کہ اپنے گھروالوں کی امامت کرایا کریں ۔[1] ایک راوی ٔ حدیث حضرت عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ مؤذّن دیکھا ہے،وہ ایک بہت ہی بوڑھا شخص تھا۔ علّامہ شوق نیموی حنفی اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں : (اِسْنَادُہٗ حَسَنٌ) ’’اس کی سند حسن درجہ کی ہے۔‘‘ [2] پس معلوم ہوا کہ عورتیں الگ سے کسی گھر میں جماعت کراسکتی ہیں ۔ 2 اس میں مؤذن بوڑھا رکھا جائے گا۔جیساکہ مذکورہ حدیث میں بیان ہواہے بشرطیکہ یہ بوڑھا اُسی گھر کافرد ہو کیونکہ وہ بوڑھا مؤذِّن حضرت امّ ورقہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا ،جیسا کہ [1] سنن ابی داؤد،باب امامۃ النسآء:۱؍۲۰۲ [2] دیکھییے اثار السنن ،ص:۱۶۴