کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 34
صاحبِ تحریر کی بوکھلاہٹ کا پلندہ: اگر غیر مقلّدین کے نزدیک مردوعورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے تو پھر مندرجہ ذیل چیزوں کی عورتوں کو اجازت ملنی چاہیے۔ 1 وہ اگر اپنی الگ مسجد بنانا چاہیں تو بنالیں ۔ 2 اس میں وہ مؤذّن،امام،خطیب بھی بنانا چاہیے تو بنالیں ۔ 3 انہیں آذان دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔ 4 اقامت کی اجازت ہونی چاہیے۔ 5 مردوں کی امامت کی اجازت ہونی چاہیے۔ 6 مردوں کی طرح عورت کو بھی آگے ہوکر امامت کرانی چاہیے۔درمیان میں کھڑے ہونے کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ 7 مردوں کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ 8 اونچی آواز سے قراء ت اور اونچی آواز سے آمین کہنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ 9 انہیں بھی ننگے سر نماز پڑھنے ، نیز کہنیاں اور ٹخنے کھول کر نماز پڑھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ 10 ان کے لیے بھی جماعت میں شرکت ضروری ہونی چاہیے۔ 11 ان پر بھی جمعہ کی نماز واجب ہونی چاہیے۔ لیکن غیر مقلّدین حضرات عورتوں کو ان امور کی اجازت نہیں دیتے،بلکہ مردوعورت میں فرق کرتے ہیں ۔ہمیں بتلایا جائے کہ ان امور میں فرق کرنا مداخلت فی الدّین نہیں تو فقہاء نے جن امور میں فرق بیان کیا ہے اُن میں فرق کرنا مداخلت فی الدّین کیوں ہے؟