کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 33
((کَفیٰ بِالْمَرْئِ کَذِباً اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَاسَمِعَ)) [1] ’’آدمی کے لیے یہ جھوٹ کافی ہے کہ وہ ہر بات بیان کردے جو اس نے سنی ہو۔‘‘ یعنی تحقیق کیے بغیر کوئی بات بیان کرے۔پس جب تک کسی بات کی تحقیق مکمل نہ ہو اس وقت تک اس کو بیان نہیں کرنا چاہیے۔اور سب سے زیادہ تحقیق احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ضروری ہے۔کیونکہ یہ ہمارے دین کا حصہ ہیں ۔اور دینِ اسلام کے دشمنوں نے بھر پورکوشش کی ہے کہ دینِ اسلام کے حُلیہ کو بگاڑنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھیں لیکن ان کے جھوٹ کو سچی حدیثوں سے الگ کرنے کے لیے اللہ نے ان محدِّثین کرام سے کام لیا ہے جنہیں آج آئمہ جرح وتعدیل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور ان آئمہ کا کسی راوی کے بارے میں جرح کرنا،اس کا حال بیان کرنا، ایک قسم کی گواہی ہے جسے ماننا ضروری ہے کیونکہ گواہ کی گواہی کو قبول کرنا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔اور یہ تقلید نہیں ہے کیونکہ یہ محدِّثینِ کرام اپنا آنکھوں دیکھا حال(مشاہدہ) بیان کرتے ہیں ۔اگر ہم ہرقسم کی جرح کو قبول کرتے تو پھر اسے تقلید کہا جاسکتا ہے لیکن محدِّث کی کسی راوی کے بارے میں جرحِ مبہم کو ہم قبول نہیں کرتے جب تک اس کے ضُعف کی وجہ بیان نہ کرے۔مثلاً کسی راوی میں جھوٹ بولنے کی عادت ہویا اس کا حافظہ کمزور ہو، زیادہ بھولنے والا ہو یا فسق وفجور کی عادات رکھتا ہو یا تدلیس کرنے والا ہو وغیرہ وغیرہ۔ پس تمام اہل السنت والجماعت اس بات پر متّفق ہیں کہ محدِّثین کا کسی راوی کے بارے میں ضعیف کہنا یا صحیح کہنا اس کے قابلِ حجّت ہونے یا نہ ہونے میں معتبر ہے۔اگر آپ کے پاس حدیث کے ضُعف وصحت کو معلوم کرنے کے لیے اور کوئی طریقہ ہو تو اس کی وضاحت کردیں ۔ اگر اور کوئی طریقہ نہیں بلکہ یہی طریقہ ہے جس پر اہل السنّت والجماعت کا اتفاق ہے تو پھر آپ کو ماننا پڑے گا کہ مردوعورت کے طریقۂ نماز میں کوئی فرق نہیں کیونکہ اس کے بارے میں کوئی قابلِ حُجت دلیل اور نص نہیں ہے۔ [1] صحیح مسلم بحوالہ صحیح الجامع الصغیر:۴۴۸۲ وسلسلۃ الاحادیث الصحیحہ:۲۰۲۵