کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 31
فقہاء تو ان کے لیے بھی اِرسال(ہاتھ لٹکتے چھوڑنے) کے قائل ہیں تو پھر تمام فقہاء کا اتفاق کیسے ہوا؟بہرحال نماز میں مردوعورت سب کو ہاتھ سینے پر باندھنا چاہیے۔کیونکہ یہی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور اس میں عورت ومرد کی تفریق پر کوئی صحیح دلیل وارد نہیں ہوئی ہے۔ 4۔جلسہ وسجدہ میں فرق احناف کی دلیل: امام ابوزیدقیروانی مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت نماز کی ہیئت وکیفیّت میں مرد ہی کی طرح ہے ا لّایہ کہ عورت اپنے آپ کو ملاسمٹا کر رکھے گی، اپنی رانیں اور بازوکھول کر نہیں رکھے گی۔پس عورت اپنے جلسہ اور سجدہ دونوں میں خوب ملی ہوئی اور سمٹی ہوئی ہوگی۔[1] اہلِ حدیث کا جواب: جیسا کہ پہلے کئی دفعہ بیان کیا گیا ہے کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے جس میں مرد وعورت سب کو یہ فرمایاگیاہے کہ میری نماز کی طرح نماز پڑھا کرو۔پس نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عام حکم کسی عالِم کے قول یا فتوے سے کسی کے ساتھ مختص نہیں ہوجاتا جب تک اس کی تخصیص کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث یا آیتِ قرآنی نہ آئے۔لہٰذا اس مسئلے کو ثابت کرنے کے لیے ایسے دلائل جو آپ نے پیش کیے ہیں کافی نہیں کیونکہ ان میں جو مرفوع ہیں وہ من گھڑت اور ضعیف ہیں اور کچھ جوعلماء کے اقوال ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی عام حکم کے مخصِّص نہیں بن سکتے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اسی طرح عام ہے ،مردو عورت سب اس میں شامل ہیں ۔ جس طرح پہلے بھی میں نے گزارش کی ہے کہ حضرت محمد رّسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے تمام امت کے لیے ہدایت بناکر بھیجا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو سب کے لیے نمونہ قراردیا [1] الرسالہ۔بحوالہ نصب العمود صفحہ ۵۰