کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 30
جس طرح اس پریہ صحیح حدیث پیش کی گئی جومردو عورت کے’’ لباس ‘‘میں فرق کی واضح دلیل ہے، اسی طرح نماز کی کیفیّت میں فرق کی واضح اور صحیح دلیل پیش کی جائے تو ہم ماننے کے لیے ہر وقت تیار ہیں ۔چونکہ جو دلائل آپ حضرات پیش کرتے ہیں ان میں سے جو صریح ہیں وہ تومن گھڑت یا ضعیف ہیں اور جو صحیح ہیں ان سے مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔اس لیے ہم آپ کا یہ مسئلہ(مرد وعورت کی نماز میں فرق) تسلیم نہیں کرتے۔اور دوسری طرف اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے کہ ’’میری نماز کی طرح نماز پڑھا کرو ‘‘جس میں مرد وعورت سب شامل ہیں ۔ 3۔ رضی اللہ عنہا ہاتھ باندھنے میں فرق احناف کی دلیل: حضرت مولانا عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’رہا ہاتھ باندھنے کا معاملہ،عورت کے حق میں تو فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کے لیے سنّت سینے پر ہاتھ باندھنا ہے۔‘‘[1] اہلِ حدیث کا جواب: علّامہ عبدالحئی لکھنوی کا قول دلیلِ شرع نہیں کیونکہ وہ معصوم عن الخطاء نہیں تھے۔نہ اُن پر وحی نازل ہوتی تھی۔لہٰذا ان کا قول دلیل میں پیش کرنا صرف اورصرف اپنی تحریر کو طول دینے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جیسا عورتوں کے لیے سینے پر ہاتھ باندھنا مسنون ہے اسی طرح مردوں کے لیے بھی سینے پر ہاتھ باندھنا مسنون ہے،کیونکہ فرق کی کوئی صحیح دلیل نہیں ۔ اور عورتوں کے لیے سینے پر ہاتھ رکھنے کے بارے میں تمام فقہاء کاتو اتفاق نہیں ہے، البتہ اگرصرف حنفی مسلک کے فقہاء کا اتفاق کہا جائے تو درست ہوگا۔کیونکہ مالکی مسلک کے بعض [1] السعایۃ ۲؍۱۵۶