کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 29
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معتمد سند کے ساتھ مرد وعورت کے لیے کوئی فرق ثابت نہیں مگرمقلّدین اس میں فرق کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض کے آئمہ نے ایساہی کہا ہے ۔لیکن یہاں پر حدیث صحیح ہے، اسے مانتے ہوئے لیکن اپنے غلط خیال کو تقویت دینے کے لیے دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔حالانکہ جو مسئلہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے خود اس کے خلاف عمل کرتے ہیں ۔ یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ امام بھولے تو مقتدی مرد سُبْحَانَ اللّٰہ کہے،لیکن حنفی مذہب کے بعض مقلّدین سُبْحَانَ اللّٰہ کی جگہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے ہیں ۔جو اس حدیث کی مخالفت ہے۔ (فَإِلٰی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی) احناف کی نویں دلیل: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بالغہ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں ہوتی۔‘‘ [1] اہل حدیث کا جواب: پہلے بھی کئی دفعہ گزارش کرچکا ہوں کہ ہمیں کسی بھی مسئلے میں صحیح صریح حدیث ملے تو ہم اس کو اپنا مذہب سمجھتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں ۔خواہ ہمارے کسی استاد یا عالم کی بات اس حدیث کے خلاف بھی کیوں نہ ہو پھر بھی ہم حدیث کو لیں گے اور اپنے عالم کا قول چھوڑ دیں گے۔یہ ہمارا ایمانی تقاضا ہے۔چونکہ جو حدیث آپ نے پیش کی ہے یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مردوعورت کے لباس میں فرق ہے۔عورت بغیر اوڑھنی کے نماز نہیں پڑھے گی اور اگر مرد ننگے سر نماز پڑھ لے تو نماز درست ہے،کیونکہ اس میں جو حکم آیا ہے کہ بغیر اوڑھنی کے نماز قبول نہیں ہوتی صرف بالغہ عورت کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے،لیکن اس سے یہ دلیل لیناکہ عورت کی نماز کی کیفیّت اور ہیئت بھی مردوں سے الگ ہے یہ غلط ہے کیونکہ لباس نماز کی کیفیّت سے الگ ایک اضافی چیز ہے جو نماز کے لیے شرط ہے۔ [1] ابوداؤد۱؍۹۶،ترمذی ۱؍۸۶۔