کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 27
ہے۔استاذ کے لقب سے معروف ہے اور اس کی کنیت ابو محمد ہے۔امام ابن الجوزی نے کہا ہے کہ امام ابوسعید الرواس نے اس کے متعلق کہا ہے کہ متّہم بوضع الحدیث (اس پرحدیثیں گھڑنے کا الزام)ہے۔امام احمد السلیمانی کہتے ہیں کہ وہ ایک حدیث کی سنددوسری سند کے متن کے ساتھ اور کسی اور سند والا متن کسی اور سند کے ساتھ لگادیاکرتا تھا اور یہ بھی حدیث گھڑنے کاہی ایک طریقہ ہے۔ امام ابوزرعہ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے۔امام حاکم اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ عجیب عجیب کارناموں والا ہے یا عجیب وغریب حدیثوں کو بیان کرنے والا ہے۔اور وہ بھی ثقہ راویوں سے ،یعنی ثقہ رواۃکی طرف عجیب عجیب روایات منسوب کرتا تھا۔ امام خطیب بغدادی کہتے ہیں : ( لَایُحْتَجُّ بِہٖ ) [1] ’’یہ قابلِ حجّت نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح دیگر محدّثین وآئمہ فن الرّجال نے اسے ضعیف کہا ہے۔اور اس سند کے کچھ اور راوی بھی ضعفا ء اور مجہولین ہیں ۔[2] پس یہ روایت بھی قابلِ حجّت نہیں ہے،کیونکہ یہ انتہائی ضعیف ہے اور اس کی سند میں اندھیرا ہی اندھیراہے۔ احناف کی آٹھویں دلیل: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تسبیح مردوں کے لیے ہے اور تصفیق(ایک ہاتھ کی پُشت دوسرے کی ہتھیلی پر مارنا)عورتوں کے لیے ہے۔‘‘ [3] [1] دیکھییے:میزان الاعتدال ۲؍۴۹۶،لسان المیزان ۳؍۳۴۸ [2] فتاویٰ الدین الخالص ۴؍۸۶ للشیخ امین اللّٰہ حفظہٗ اللّٰہ تعالیٰ۔ [3] بخاری ۱؍۱۶۰،مسلم۱؍۱۷۵،ترمذی ۱؍۹۵