کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 25
تیسری بات یہ ہے کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا وہ اثر صحیح احادیث کے خلاف ہے،کیونکہ اس میں یہ ہے کہ عورت سجدے کی حالت میں پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ چپکا لے۔لیکن نبی ِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں اپنے پیٹ کو رانوں کے کسی حصے کے ساتھ نہیں لگاتے تھے،جیسا کہ پہلے حضرت ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت میں گزرگیاہے۔ اب غور کیجیے کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا اثر جس سے ہمارے محترم دوست نے دلیل لی ہے۔حدیث ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی خلاف ہے۔ اور ابراہیم النخعی رحمہ اللہ کے خود اپنے اس قول کے بھی خلاف ہے جو کہ صحیح سند سے ثابت ہے۔پس ایسا اثر ِ تابعی کیسے حُجّت ہوسکتا ہے؟ احناف کی چھٹی دلیل: حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ مرد جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں پر رکھے جیسا کہ عورت رکھتی ہے۔[1] اہل حدیث کاجواب: آپ کی یہ دلیل بھی قابلِ قبول نہیں کیونکہ یہ شرعی حُجّت نہیں ہے۔یہ امام مجاہد رحمہ اللہ کا اثر ہے۔کوئی اثرِ صحابی وتابعی،کسی مرفوع حدیث کے مقابلہ میں کیسے حُجّت ہوسکتا ہے؟ایک عالم کا قول جب صحیح مرفوع حدیث کے خلاف آجائے تو وہ ردّ کرنا چاہیے نہ کہ صحیح حدیث کو چھوڑ کر اس قول کی تقلید کی جائے۔خواہ وہ عالم کتنا ہی بڑا ہو۔ وحی تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی تھی جس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ۔باقی ہر انسان سے غلطی ممکن ہے،پس جس سے غلطی ممکن ہو اس کا ہر قول یا فعل کیسے دلیل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے؟جب کہ یہ بھی واضح ہوجائے کہ یہ قول وفعل صحیح مرفوع احادیث کے خلاف [1] مصنف ابن ابی شیبہ۱؍۲۷۵