کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 23
یہ اس کی تدلیس کی واضح دلیل ہے۔اسی طرح یہ اپنی عمر کے آخری حصہ میں اختلاط کا شکار ہوگیاتھا۔جیسا کہ میزان الاعتدال میں ہے: (وَاِنَّمَا تَرَکُوْہُ لِلْاِخْتِلَاطِ) [1] ’’ محدّثین نے اسے اختلاط کی وجہ سے چھوڑدیا ہے ۔‘‘ لہٰذا یہ روایت بالکل قابل ِ حجّت نہیں ہے کیونکہ ایک تو اس کا راوی حارث الاعور کذّاب ہے اور بقولِ محدّثین حضرت علی رضی اللہ عنہ پرسب سے زیادہ جھوٹ اُس نے باندھا ہے اور یہ روایت بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف اس نے منسوب کی ہے اوردوسرے یہ کہ اس کا ایک دوسرا راوی ابواسحاق مدلِّس ہے۔ احناف کی چوتھی دلیل : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے عورت کی نماز کے بارے میں سوال ہوا،تو انھوں نے فرمایا کہ وہ اکٹھی ہوکر اور خوب سمٹ کر نماز پڑھے۔ [2] اہلِ حدیث کاجواب: یہ ایک صحابی کا اثر ہے اور کوئی اثرِ صحابی وتابعی کسی حدیثِ مرفوع کے مقابلے میں حُجّت نہیں ۔اسی طرح سند کے لحاظ سے بھی یہ ضعیف ہے ،کیونکہ اس کا راوی یزید بن حبیب مشہور مدلِّس ہے۔اور مدلِّسراوی جب عَنْ کے ساتھ روایت کرے تووہ روایت اس وقت تک ضعیف ہوتی ہے جب تک اس کا کوئی متابع نہ ملے یا کسی طریق میں تصریح بالسّماع نہ ملے۔ یہاں بھی یزید بن حبیب نے اسے عَنْ کے ساتھ روایت کیا ہے اور یہ مدلِّس ہے۔ احناف کی پانچویں دلیل: حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی [1] میزان الاعتدال ۳؍۲۷۰ [2] مصنف ابن ابی شیبہ:۱؍۲۷۵