کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 17
1 اگرکنزالعمّال کی عبارت ہی مکمل نقل کردیتے تو خود واضح ہوجاتا کہ یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ کنزالعمّال کے مصنّف نے اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد خودلکھا ہے: (رَوَاہُ ابْنُ عَدِیِّ وَالْبَیْہَقِیُّ وَضَعَّفَہٗ عَنِ ابْنِ عُمَر[ رضی اللّٰه عنہما]) ’’اس روایت کو امام ابن عدی اور امام بیہقی نے ابن عمر ( رضی اللہ عنہما ) سے روایت کیا ہے، اور اسے ضعیف کہا ہے‘‘۔[1] خود اُسی کتاب کے حوالے سے میں نے اس کاضُعف ثابت کردیا ہے جس کتاب کا حوالہ صاحبِ مضمون نے دیا تھا۔اب مزید اس کے بارے میں محدِّثین کے اقوال ملاحظہ ہوں : 2 امام بیہقی اس حدیث کو اپنی کتاب(السنن الکبریٰ) میں ذکرکرنے کے بعد لکھتے ہیں : (قَالَ اَحْمَدُ :اَبُوْ مُطِیْعٍ بَیِّنُ الضُّعْفِ فِیْ اَحَادِیْثِہٖ وَعَامَّۃُ مَایَرْوِیُہِ لَایُتَابَعُ عَلَیْہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ ضَعَّفَہٗ یَحْییٰ بْنُ مُعِیْنٍ وَغَیْرُہٗ۔)[2] ’’امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابومطیع(جو اس حدیث کا ایک راوی ہے) اس کی احادیث میں ضُعف واضح ہے اوروہ جو روایت بیان کرتا ہے اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔ اور ہمارے استاد نے کہا ہے کہ اسے یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔‘‘ مزید ملاحظہ فرمائیے: 3 اس حدیث کی سند میں دوعِلّتیں ہیں ۔ایک یہ کہ اس کا راوی ابو مطیع البلخی ہے،جس کا پورا نام حکم بن عبداللہ ابومطیع البلخی ہے۔امام ذہبی اس کے متعلق لکھتے ہیں : (کَانَ بَصِیْراً بِالرَّأْیِ عَلَّامَۃٌ کَبِیْرُ الشَّأْنِ وَلٰکِنَّہٗ وَاہٍ فِیْ ضَبْطِ الْأَثَرِ۔) [1] کنزالعمال،۷؍۷۲۳ [2] السنن الکبریٰ للبیہقی ۲؍۳۱۵