کتاب: مرد و زن کی نماز میں فرق ؟ - صفحہ 16
2اسی طرح یزید بن ابی حبیب معروف مدلِّس راوی ہے۔ اور منقطع روایت حُجّت نہیں بلکہ محدِّثین کے نزدیک منقطع ضعیف کی اقسام میں سے ہے۔[1] 3(تیسری علّت) یہ ہے کہ اس کی سند میں سالم بن غیلان راوی متروک ہے ،جس کی گواہی حنفی عالم ابن الترکمانی نے بھی دی ہے۔اس کے بارے میں المغنی فی الضعفاء(ص۳۸۹،ج۱)تہذیب التہذیب (ص۴۴۲،ج۳)تہذیب الکمال(ص۴۶۲ا)الجرح والتعدیل(ص۸۰۸،ج۴)اورمیزان الاعتدال(ص۱۱،ج۲) میں محدِّثین ِ کرام کی جرح موجود ہے۔ احناف کی دوسری دلیل: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چِپکالے، اس طرح کہ اُس کے لیے ٔ زیادہ سے زیادہ پردہ ہوجائے۔بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظرِ(رحمت) کرکے ارشاد فرماتے ہیں : ’’اے فرشتو!میں تمہیں گواہ بناتا ہوں اس بات پر کہ میں نے اسے بخش دیا ہے۔‘‘[2] اہل حدیث کاجواب : محتر م! آپ نے ایک علمی اصول کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ اصول یہ ہے کہ استدلال کرتے وقت کوئی حدیث ذکر کرنا ہو تو کسی مستند کتاب کا حوالہ دینا چاہیے،لیکن یہاں پر اصل چھوڑ کر نقل(معلق کتاب) کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں سند بھی بیان نہیں ہوئی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کی سند چھپانے کے لیے ایسا کیا گیا ہے تا کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ یہ سند اً من گھڑت روایت ہے۔ [1] دیکھییے: فتح الباری ،ص۸۹،جلد ۳ وتوجیہ القاری،ص۱۶۷ [2] کنزالعمّال،ص۵۴۹،ج۷