کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 469
بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (النحل۱۶ /۹۷)
’’جومرداورعورت بحالت ایمان نیک عمل کرے ہم اس کو (دنیا میں)پاک(اورآرام کی)زندگی سے زندہ رکھیں گےاور(آخرت میں)ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے ۔‘‘
سب سے بدترین برائی اورخرابی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کو چھوڑ کر وضعی قوانین، انسانوں کے بنائے ہوئےنظام، آباؤ اجداد کی عادات اورکاہنوں، جادوگروں اورنجومیوں کی باتوں کو اختیار کرلیا جائے جیسا کہ آج کل بہت سے لوگ ان باتوں میں مبتلاہوکراللہ تعالیٰ کی شریعت کی بجائے انہی کو اپنے لیے پسند کیے ہوئے ہیں حالانکہ یہ بہت بڑے نفاق، کفروظلم اورفسق کی بہت بڑی علامت اوران احکام جاہلیت میں سے ہے جن کوقرآن کریم نے باطل قراردیااورجن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے:
﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿٦٠﴾ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللّٰه وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا﴾ (النساء۴ /۶۰۔۶۱)
’’ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوی تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب)تم پر نازل ہوئی اورجو (کتابیں)تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اورچاہتے یہ ہیں کہ ایک سرکش کے پاس لے جاکرفیصلے کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر (سیدھے )راستے سے دور ڈال دےاورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم اللہ نے نازل فرمایا ہےاس کی طرف (رجوع کرو)اورپیغمبر کی طرف آؤ تم منافقوں کو دیکھتے ہوکہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں ۔‘‘
اورفرمایا:
﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰه وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّٰه إِلَيْكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللّٰه أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ ﴿٤٩﴾ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰه حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ (المائدۃ۵ /۴۹۔۵۰)
’’اورجو(حکم)اللہ نے نازل فرمایاہے، اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنااوران کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنااوران سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو اللہ نے تم پر نازل فرمایا ہے کہ کہیں تم کو بہکا نہ دیں، اگریہ نہ مانیں تو جان لوکہ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اوراکثر لوگ تونافرمان ہیں، کیا یہ زمانہ جاہلیت کے حکم فیصلے کے خواہش مند ہیں اورجو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ سے اچھا حکم(فیصلہ )کس کا ہے ۔‘‘
نیز فرمایا:
﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰه فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ (المائدۃ۵ /٤٤)
’’اورجواللہ کے نازل کیے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دیں توایسے لوگ کافر ہیں ۔‘‘
﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰه فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ (المائدۃ۵ /۴۵)