کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 468
اس دنیا میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی اپنے بندوں کے اختلافات کا فیصلہ فرماتا ہے، اس وحی کے ذریعے جو اس نے قرآن وسنت کی صورت میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے اورقیامت کے دن وہ خود بنفس نفیس اپنے بندوں کے فیصلے فرمائے گا۔ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰه وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللّٰه وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰه وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ (النساء۴ /۵۹) ’’اے ایمان والو!اللہ اوراس کے رسول کی فرماں برداری کرو اور تم میں سے جو صاحب حکومت ہیں ان کی بھی، کسی بات میں تمہارا آپس میں اختلاف پیدا ہو جائے تو اگر اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تواس میں اللہ اور اس کے رسول (کے حکم)کی طرف رجوع کرو، یہ بہت اچھی بات ہے اوراس کا مآل(انجام)بھی اچھا ہے ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےاپنی اوراپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے کیونکہ اسی پر دنیا وآخرت کی خیروبھلائی اورعزت اورقیامت کےدن عذاب الٰہی سے نجات کا ا نحصارہے ۔اللہ تعالیٰ نے صاحب حکومت لوگوں کی اطاعت کا اطاعت اللہ واطاعت رسول پر عطف کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اورعامل کو دوبارہ ذکر نہیں فرمایاکیونکہ اولوالامرکی اطاعت صرف اسی صورت میں واجب ہے جب وہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر مبنی ہواوراگراللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معصیت ونافرمانی لازم آتی ہوتوپھر کسی بھی انسان کی اطاعت واجب نہیں خواہ وہ کوئی بھی ہو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے کہ’’اطاعت توصرف نیکی کے کام میں ہے ‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشادفرمایا ہے کہ’’اگرخالق کی نافرمانی لازم آتی ہو توپھرمخلوق کی اطاعت نہیں کی جاتی‘‘ پھر مذکورہ بالاآیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ اپنے تنازعات کو اللہ اوراس کے رسول کی طرف لوٹا دو، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللّٰه وَالرَّ‌سُولِ﴾ (النساء۴ /۵۹) ’’اوراگرکسی بات میں تمہارے درمیان اختلاف واقع ہو جائے تواس میں اللہ اوراس کے رسول (کے حکم)کی طرف رجوع کرو ۔‘‘ اللہ کی طرف رجوع کرنے سے مراد اس کی کتاب کریم کی طرف رجوع کرنا ہے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع سے مرادآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی طرف اوربعد از وفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ کی طرف رجوع کرناہے اوراس حکم کے بعد فرمایاکہ: ﴿ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ (النساء۴ /۵۹) ’’یہ بہت اچھی بات ہے اوراس کا مآل(انجام)بھی اچھا ہے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تمام مشکلات اورتنازعات کو اللہ اوراس کے رسول کی طر ف لوٹانے ہی میں ان کی بہتری ہے اوردنیا وآخرت میں انجام کارکے اعتبارسےبھی اسی میں ان کی بھلائی ہے، لہذا اے اللہ کے بندو!اللہ تم پر اپنی رحمت کے پھول برسائے !اس حقیقت کو جان لو!کتاب اللہ وسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےدامن سے وابستہ ہوجاؤتاکہ حیات طیبہ اور ابدی سعادت کی کامرانیاں تمہارامقدربن سکیں، ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ‌ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَ‌هُم