کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 467
’’جولوگ پیغمبرکے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے(ایسا نہ ہوکہ)ان پر(دنیا میں) کوئی آفت پڑجائے یا (آخرت میں)تکلیف دینے والاعذاب نازل ہو۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿ تِلْكَ حُدُودُ اللّٰه ۚ وَمَن يُطِعِ اللّٰه وَرَ‌سُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿١٣﴾ وَمَن يَعْصِ اللّٰه وَرَ‌سُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارً‌ا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ (النساء۴ /۱۳۔۱۴) ’’(یہ تمام احکام)اللہ کی حدیں ہیں اور جو شخص اللہ اوراس کے پیغمبرکی فرمان برداری کرےگا، اللہ اس کو بہشتوں(باغات) میں داخل کرےگا، جن میں نہریں بہہ رہی ہیں۔وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرےگااوراس کی حدود سے نکل جائےگا اس کو اللہ دوزخ میں ڈالےگا، جہاں وہ ہمیشہ رہےگااوراس کو ذلت کا عذاب ہوگا ۔‘‘ ان آیات محکمات میں اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم ہے، کتاب اللہ کی اتباع کی ترغیب ہے، ہدایت ورحمت اوردخول جنت کو اللہ ورسول کی اطاعت کے ساتھ مشروط قراردیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معصیت ونافرمانی کی صورت میں فتنہ اورذلت کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔لہذا اے مسلمانو!اس سے ڈر جاؤجس سے تمہیں اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے، اس چیز کے بجالانے میں سبقت کرو، جس کا اس نے حکم دیا ہے اورپھر اس سلسلہ میں اخلاص، صدق، شوق اورخوف کے پہلو کو بھی فراموش نہ کروتوہر چیز کے حاصل کرلینے اوردنیا وآخرت کے ہر شر سےمحفوظ رہنے میں کامیاب ہوجاؤگے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی اطاعت تویہ ہے کہ اس کی شریعت کو نافذ کیا جائے، حکم شریعت کےسامنے سرتسلیم ورضا خم کردیا جائے، اس کی ایک دوسرے کو تلقین کی جائے اوراس کی مخالفت سے ڈرایا جائے تاکہ حسب ذیل ارشادباری تعالیٰ پر عمل ہوسکے: ﴿فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (النساء۴ /۶۵) ’’تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں، تب تک مومن نہیں ہوں گے ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قسم کھاکرفرمایاہے کہ لوگ اس وقت تک ایماندارنہیں ہوسکتے جب تک اپنے تمام تنازعات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومنصف نہ بنالیں اورکسی جبرواکرہ کے بغیر، تسلیم ورضا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے سامنے سراطاعت نہ جھکا دیں اورپھر اس ارشادکا تعلق دین ودنیا کے تمام مسائل ومشکلات سے ہے ۔جیسےاپنی حیات طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تمام مسائل میں منصف تھی، ایسے ہی اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی سنت منصف وحاکم ہے اوروہ شخص بلاشک وشبہ ایمان سے محروم ہے جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اعراض کرے یا اس کے سامنے سرتسلیم ورضا خم نہ کرے، ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ﴾ (الشوری۴۲ /۱۰) ’’اورتم جس بات(مسئلہ)میں اختلا ف کرتے ہوتواس کا فیصلہ اللہ کی طرف(سےہوگا)۔‘‘