کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 466
مختصر مگر جامع سورۂ مبارکہ۔۔۔۔۔سورہ العصر۔۔۔۔۔میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ تمام لوگوں کو دوقسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔(۱)ناکام ونامراداور(۲)کامیاب وبامراد۔پھر فرمایا: کامیاب اور بامراد وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، نیک عمل کرتے رہے، آپس میں حق بات کی تلقین اورصبر کی تاکید کرتے رہے، توجس شخص میں یہ چاروں صفات جمع ہوجائیں وہ مکمل طورپرکامیاب وکامران اور دنیا وآخرت کی ابدی سعادت اورعزت ونجات سےشادکام (ہمکنار)ہے اورجو شخص ان صفات سے جس قدر محروم ہوگا وہ اسی قدرکامیابی وکامرانی سے بھی محروم ہوگا اور اپنی کمی وکوتاہی اور واجبات سے غفلت واعراض کے مطابق خسارہ نقصان اورشروفساد سے دوچارہوگا۔لہذا اے اللہ کے بندو!اپنے اللہ سے ڈر جاؤ، کامیاب وکامران لوگوں کے اخلاق کو اختیار کرو، آپس میں ایک دوسرے کو بھی اسی کی تلقین کرو، خسارہ نقصان اٹھانے والوں کی صفات اورمفسدین کے اعمال سے بچو، ان کے ترک کردینے کے سلسلہ میں ایک دوسرے کی مدد کرو اورلوگوں کو ان اعمال سے بچاؤ تاکہ نجات، سلامتی اورعافیت کی کامیابی وکامرانی سے بہرہ ورہوسکو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ ’’دین ہمدردی وخیرخواہی کا نام ہے، دین ہمدردی وخیرخواہی کا نام ہے، دین ہمدردی وخیرخواہی کا نام ہے، ‘‘عرض کیا گیا کس کے لیے ہمدردی وخیر خواہی؟فرمایا: ’’اللہ کے لیے، اللہ کی کتاب کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، مسلم حکمرانوں کے لیےاورعامۃ المسلمین کے لیے!‘‘ سب سے اہم امور جن کے لیے ہمدردی وخیر خواہی اورتلقین وتاکید ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اوراس کےنبی امین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعظیم کرنا، ان کے دامن کو مضبوطی سے تھامنااورتمام احوال میں لوگوں کو انہی کی طرف دعوت دینا ہے کیونکہ دنیا وآخرت میں سعادت، ہدایت اورنجات حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم نہ کی جائےاوروفات تک صبرواستقامت کے ساتھ اعتقاد اورقول وعمل کو انہی کے ساتھ وابستہ نہ رکھاجائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی اوراپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے، ہرخیرو بھلائی کو اسی کے ساتھ مشروط قراراردیا ہے اوراللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معصیت ونافرمانی کی صورت میں دنیا وآخرت کے طرح طرح کے عذابوں، ذلتوں اور رسوائیوں کی وعید سنائی ہے، جیسا کہ اس نے ارشادفرمایاہے: ﴿قُلْ أَطِيعُوا اللّٰه وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ وَمَا عَلَى الرَّ‌سُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ﴾ (النور۲۴ /٥٤) ’’(اے پیغمبر!)کہہ دیجئے کہ اللہ کی فرماں برداری کرو اور رسول (اللہ)کے حکم پر چلو، اگرتم منہ موڑوگے تورسول پر (اس چیز کا اداکرناہے) جو ان کے ذمے ہےاورتم پر (اس چیز کا اداکرنا)جو تمہارے ذمے ہےاوراگرتم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالوگے اوررسول کے ذمے توصاف صاف ( احکام الہٰی کا )پہنچادینا ہے ۔‘‘ اورفرمایا: ﴿وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَ‌كٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْ‌حَمُونَ﴾(الانعام۶ /۱۵۵) ’’یہ برکت والی کتاب بھی ہم نے اتاری ہے، تو اس کی پیروی کرو اور(اللہ سے ) ڈروتاکہ تم پر مہربانی کی جائے۔‘‘ اورفرمایا: ﴿فَلْيَحْذَرِ‌ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِ‌هِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ (النور۲۴ /۶۳)