کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 464
جب کوئی شخص اپنے نفس سے غافل ہوکر اپنی خواہشات وشہوات کے پیچھے چل پڑے اوراپنی آخرت کی تیاری سےغافل ہوجائے تویہ ہلاکت کا عنوان اورخسارے کی دلیل ہے لہذا ہر ایک کو خود اپنا جائزہ لینا چاہئے، اپنا محاسبہ خود کرتے رہناچاہیئے، اپنے عیوب پر نظر رکھنی چاہئے کیونکہ اپنے عیوب کودیکھنے سےآدمی کوبہت غم واندوہ لاحق ہوگا، اپنے ہی فکرمیں، دوسروں سے بےنیاز ہوکر غلطاں وپیچاں ہوگااوراس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلت وانکساری کا اظہارکرتے ہوئےاس سے عفوومغفرت کا سوال کرے گا۔محاسبہ اوراللہ تعالیٰ کے سامنے ذلت وانکساری کا اظہار دنیا وآخرت میں سعادت اورفلاح وعزت کا سبب ہے ۔ ہر مسلمان کو جاننا چاہئے کہ اسے جوبھی صحت، نعمت، مقام ومرتبہ کی بلندی اورخوشحالی نصیب ہوتو یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل واحسان ہے اوراسے جومرض، مصیبت، فقر، قحط سالی اوردشمن کے غلبہ کی صورت میں مصائب لاحق ہوں تویہ اس کے گناہوں کا نتیجہ ہیں۔ دینا میں جو بھی آلام ومصائب پیش آتے ہیں تو ان کا سبب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اس کے حکم کی مخالفت اوراس کےحقوق اداکرنے میں سستی وکوتاہی ہے جیسا کہ اس نے ارشادفرمایاہے: ﴿وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ‌﴾ (الشوری۴۲ /۳۰) ’’اورجو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے، سوتمہارے اپنے فعلوں سے ہے اوروہ(یعنی اللہ تعالیٰ) بہت سے گناہ تومعاف کردیتا ہے ۔‘‘ اورفرمایا: ﴿ظَهَرَ‌ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ‌ وَالْبَحْرِ‌ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ﴾ (الروم۳۰ /۴۱) ’’خشکی اورتری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائےعجب نہیں کہ وہ باز آجائیں ۔‘‘ اےاللہ کے بندو !اللہ سے ڈرو، اس کے امرونہی کی تعظیم بجالاؤ، اپنے تمام گناہوں سے اس کے حضورجلدتوبہ کرو، اسی کی ذات گرامی پر اعتماداورتوکل کرو، وہ ساری مخلوق کا خالق و رازق ہے، ساری مخلوق کی پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں، مخلوق میں سے کوئی بھی اپنے لیے نقصان، نفع، موت، حیات اورمرنے کے بعد ازخود جی اٹھنے کا مالک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بندو ! اللہ تمہارے حال پر رحم فرمائے، اپنے رب اوراس کے رسول کے حق کو دوسروں کے حق وطاعت پر مقدم جانوخواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ایک دوسرے کو نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو، اپنے رب کے ساتھ حسن ظن رکھو، کثرت سے ذکر الٰہی اورتوبہ استغفارکرتے رہو، نیکی وتقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرولیکن گناہ اورظلم کے کاموں میں تعاون نہ کرو، بے وقوف لوگوں کے ہاتھوں کو پکڑلو، ان سے احکام الٰہی کی پابندی کراؤ، نواہی سے انہیں روکو، اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرو اوراسی کی خاطر بغض رکھو، اللہ کے دوستوں سے دوستی اوراس کے دشمنوں سے دشمنی رکھو، صبر کروایک دوسرے کوصبر کی تلقین کروحتی کہ اپنے رب کی ملاقات کرلو ان اعمال صالحہ کے بجالانے سےتم حددرجہ سعادت، عزت وکامرانی اوربلند وبالااور ارفع واعلی درجات پر فائز ہوجاؤگے۔ ازلی وابدی نعمتوں سے بھر پورجنتوں سے فیض یاب ہوجاؤگے، اللہ تعالیٰ ہی سے دعا ہےکہ وہ ہم سب کو اپنی رضا