کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 463
کرے کہ وہ فریضہ الہی کو ادااوراس کی نعمت کاشکریہ اداکررہا ہے۔اوراس کے بندوں پر احسان کررہا ہے، جب مسلمان اس انداز سے زکوۃ اداکرے گاتواللہ تعالیٰ اسے دوگنا اجروثواب عطافرمائے گا، اس نے جو خرچ کیا اس کے بدلہ میں اسےاورمال عطافرمائے گا، اس کے مال میں برکت عطافرمائے گااوراس کے مال کو پاک صاف کردے گاجیساکہ اس نے فرمایاہے:
﴿١خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ﴾ (التوبۃ۹ /۱۰۳)
’’(اے پیغمبر!) آپ ان کے مالوں میں سےزکوۃ لیں، اس کے ذریعےسےآپ ان کوپاک صاف کردیں کردیں اوران کے لیے دعاکردیجئے۔‘‘
اگر کوئی شخص سستی کرے اورزکوۃ اداکرنے میں بخل سے کام لے تواللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے، اس کے مال کو برکت سے محروم کردیتا ہے، اس پر تباہی وبربادی کومسلط کردیتا ہےاورایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ اس کا مال تلف ہو اورناحق کاموں میں خرچ ہواورپھر قیامت کے دن اسے عذاب بھی دے گا، چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللّٰه فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ (التوبۃ۹ /۳۴)
’’اورجولوگ سونا اورچاندی جمع کرتے ہیں اوراس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ان کو اس دن کے دردناک عذاب کی خبرسنادو ۔‘‘
ہر وہ مال جس کی زکوۃ ادانہ کی جائے وہ کنز ہے، اس کے مالک کو قیامت کے دن عذاب ہوگا، اللہ تعالیٰ ہمیں اورآپ سب کو اپنے عذاب سے بچائے۔
مسلمانوں کے غیر مکلف افراد(یعنی جو شرعی احکام کی ادائیگی سے مستثنی ہیں)جیسے نابالغ بچہ یا دیوانہ آدمی ان کے پاس اگر مال ہے تو ان کے سرپرست کی ذمہ داری ہے کہ وہ سال گزرنے پر اس مال میں سے زکوۃ اداکریں، کیونکہ کتاب وسنت کے عمومی دلائل پر مسلمان کے مال ہیں زکوۃ کے وجوب پر دلالت کرتے ہیں، چاہے وہ مکلف ہویا غیر مکلف۔
(۵)ہر مکلف مسلمان پر یہ واجب ہے خواہ وہ مرد ہویا عورت کہ وہ ہر اس کام میں جس کا اللہ اوراس کے رسول نےحکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول کی اطاعت بجالائے مثلا رمضان کے روزے رکھے، استطاعت ہوتوبیت اللہ کا حج کرے اوران دیگر تمام امور کو بھی ادا کرے، جن کے کرنے کا اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، حرمات الٰہی کی تعظیم بجالائے، غوروفکر کرتا رہے کہ اسے کس نے پیدا کیا اورکیا حکم دیا گیا ہے، ہمیشہ اپنا محاسبہ بھی کرتا رہے کہ اگر وہ اپنے فرائض وواجبات کو صحیح طورپر اداکررہا ہےتو اس پر خوش ہو، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے، اس سے ثابت قدمی کی دعامانگے اورفخر وغرورنہ کرے اوراپنے آپ کو پاک سمجھنے سےپرہیز کرے اوراگرمحاسبہ کے وقت یہ محسوس کرے کہ فرائض وواجبات کے اداکرنے میں کوتاہی ہورہی ہے یا وہ بعض حرام امورکا ارتکاب کررہا ہے تواسے فورااللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنی چاہئے ۔ندامت کااظہار کرنا چاہئے اوراللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ چلنا چاہئے، کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر، استغفاراورالحاح وزاری کرناچاہئے، سابقہ گناہوں سے اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کرنی چاہئے اورآئندہ کے لیے نیک قول عمل کی توفیق مانگنی چاہئے۔بندے کو اگر اس امر عظیم کی توفیق مل جائے تویہ سعادت اوردنیا وآخرت میں نجات کا عنوان ہے۔