کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 462
’’یہ لوگ محض ظن(فاسد)اورخواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ ان کےپروردگارکی طر ف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے ۔‘‘ خواہش نفس کی پیروی سے اللہ محفوظ رکھے، یہ دل کے نور کوبجھادیتی اورراہ حق سے روک دیتی ہے جیسا کہ ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللّٰـهِ﴾ (ص۳۸ /۲۶) ’’اورخواہش کی پیروی نہ کرو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادے گی ۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمہارے حال پر رحم فرمائے، خواہش نفس کی پیروی کرنے اورہدایت سے اعراض کرنے سے بچو، حق کے دامن کو مضبوطی سے تھامو، اسی کی دعوت دو اور اس کی مخالفت سے بچو تاکہ دنیا وآخرت کی بھلائیوں کو سمیٹ کرکامیابی وکامرانی حاصل کرسکو! (۳)نماز پنجگانہ کو قائم کرنا اورباجماعت اداکرکے اس کی حفاظت کرنا کیونکہ شہادتین کے بعد یہ سب سے اہم اورعظیم فریضہ ہے، یہ دین کا ستون اورارکان اسلام میں سے دوسرابڑارکن ہے۔قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے اسی کا حساب ہوگا، جس نے اس کی حفا ظت کرلی اس نے گویا اپنے سارے دین کی حفاظت کرلی اورجس نے اسے ترک کردیا اس نے اسلام ہی کوچھوڑ دیا۔آہ!نماز چھوڑنے والے جب اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑے ہوں گے تووہ کس قدرحسرت وندامت کے ساتھ کف افسوس ملیں گے اورکس قدربدترین انجام سے دوچارہوں گے! اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے!خود بھی نماز کی حفاظت فرماؤ اورلوگوں کو بھی اس کی تلقین کرو۔جوشخص نماز میں سستی کرے یا اسےچھوڑے اسے خوب خوب سمجھاؤ کیونکہ یہ نیکی وتقوی کے کاموں میں تعاون ہے اورصحیح حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ((إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاَةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ)) ’’ہمارے اوران کے درمیان جوعہدہے وہ نماز ہے جس نے اسے ترک کردیا اس نے کفرکیا ۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد اوراہل سنن نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایاہےکہ: ((بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ وَالشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلَاةِ )) ’’ آدمی اورکفر وشرک کے درمیان فرق، ترک نماز سے ہے ۔‘‘ اس حدیث کوامام مسلم نے اپنی ’’صحیح ‘‘ میں بیان فرمایاہےاورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہورارشادگرامی ہے کہ’’تم میں سےجو شخص کوئی برائی دیکھےتواسے اپنے ہاتھ سے مٹادے، اگراس کی طاقت نہ ہو توزبان سے سمجھادےاوراگراس کی طاقت بھی نہ ہوتوپھر دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزورترین درجہ ہے۔‘‘ (صحیح مسلم) (۴)فریضۂ زکوۃ کے اداکرنے کی طرف بھی خصوصی توجہ دینی چاہئے اورکوشش کرکے اسے اس طرح اداکیا جائےجس طرح اللہ تعالیٰ نے واجب قراردیا ہے کیونکہ یہ ارکان اسلام میں سے تیسرااہم رکن ہے ۔ہرمکلف مسلمان پر یہ واجب ہے کہ وہ اپنے مال کا حساب کرے، خوب اچھی طرح اسے گنے اورجس مال پر ایک سال گزرگیا ہو، اس کی زکوۃ اداکرے بشرطیکہ وہ نصاب کے مطابق ہواورپھراسے طیب خاطر(خوش دلی)اورانشراح صدر کے ساتھ اس جذبہ سے ادا