کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 461
زیادہ اہم امر ہےاوریہی معنی ہیں لاالہ الااللہ کی گواہی دینے کے۔اگر یہ اصول صحیح سلامت ہے توپھر بندوں کے اعمال واقوال بھی صحیح ہیں ورنہ نہیں، جیسا کہ ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَ‌كْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِ‌ينَ﴾(الزمر۳۹ /۶۵) ’’اوریقینا(اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم !) آپ کی طرف اور ان(پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اورتم زیاں کاروں میں سے ہوجاؤگے ۔‘‘ (۲)قرآن اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تفقہ حاصل کرنا اوران دونوں کو مضبوطی سے تھام لینا اوراگر دین کے معاملہ میں کوئی مشکل پیش آئے تواس کے لیے اہل علم کی طرف رجوع کرنا، چنانچہ ہر مسلمان کے لیے یہی واجب ہے کہ وہ اس مشکل کے حل کے لیے اہل علم کی طرف رجوع کرے، اسے ترک نہ کرے اورنہ اس سے اعراض کرے اورعلم وبصیرت کے بغیر محض اپنی رائے اورخواہش کی پیروی نہ کرے، چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دینے کے یہی معنی ہیں ۔اس گواہی نے بندے پر یہ واجب کردیا ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھے کہ بلاشک وشبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے سچے رسول ہیں لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس دین وشریعت کو لائے ہیں اسے مضبوطی سے تھام لیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خبریں دی ہیں ان کی دل وجا ن سے تصدیق کی جائے اوراللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت کے لیے صرف وہی طریقے اختیار کیے جائیں جو اس نے اپنےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ز بانی ہمیں سمجھائے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایاہے: ﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰه فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰه وَيَغْفِرْ‌ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ﴾ (آل عمران۳ /۳۱) ’’(اے پیغمبر!لوگوں سے)کہہ دو کہ اگرتم اللہ سےمحبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تم سے محبت رکھے گااورتمہارے گناہ معاف کردے گا ۔‘‘ اورفرمایا: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾ (الحشر۵۹ /۷) ’’جوچیز تم کو رسول دیں وہ لے لواورجس سے منع کریں(اس سے)بازرہو ۔‘‘ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ’’جس نے ہمارے اس دین (اسلام )میں کوئی ایسی نئی چیز پیدا کرلی جو اس میں نہ ہو تووہ عمل مردودہے۔‘‘ (متفق علیہ)آنحضرت علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا:’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہماراامر نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔‘‘ (صحیح مسلم) جو شخص بھی قرآن وسنت سے اعراض کرے وہ اپنی خواہش کا پجاری اوراپنےمولا کا نا فرمان ہے اوراس نافرمانی کی وجہ سے عذاب اورسزا کا مستحق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: ﴿فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ‌ هُدًى مِّنَ اللَّـهِ﴾ (القصص۲۸ /۵۰) ’’پھراگریہ لوگ تمہاری بات قبول نہ کریں توجان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اوراس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے بارے میں فرمایاہے : ﴿إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّ‌بِّهِمُ الْهُدَىٰ﴾ (النجم۵۳ /٢٣)