کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 460
’’يقينا یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور(قیامت کے)بھاری دن کو پس پشت چھوڑ(ڈال)دیتے ہیں ۔‘‘
اورفرمایا:
﴿فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰه لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ﴾ (التوبۃ۹ /۵۵)
’’آپ کو ان کے مال اوراولاد تعجب میں نہ ڈالیں(یعنی تم ان کے مال اوراولاد سے تعجب نہ کرنا)یقینااللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور(جب)ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی )وہ کافر ہی ہوں ۔‘‘
تم دنیا کے لیے پیدا نہیں کیے گئے، بلکہ تم تو آخرت کے لیے پیدا کیے گئے ہو، تمہیں حکم یہ دیا گیا ہے کہ آخرت کےلیے زاد راہ تیار کرو۔یا د رکھوتمہیں دنیا کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کو تمہارے لیے پیدا کیا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے جس کی خاطر تمہیں پیدا کیا گیا ہے، دنیا کو استعمال کرسکواوراس کی ملاقات کے لیے تیاری کرسکوتاکہ اس کےفضل وکرم اورجنت میں اس کے پڑوس کے مستحق قرارپاسکو ۔ایک عقل مند آدمی کویہ قطعا زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنےخالق ومربی کی عبادت سے اورجو اس نے اس کی عزت وسرخ روئی کے لیے تیارکررکھا ہے، اس سے اعراض کرے، شہوت پرستیوں میں مشغول رہے، عارضی دنیا کے حصول ہی کو مقصد حیات قراردےلے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر دینے اوردنیا وآخرت کے احسن انجام کا وعدہ فرمایاہے۔مسلمان آدمی کو اس سے پرہیزکرنا چاہئے کہ وہ اکثر یت کے طرز عمل سے فریب خوردہ ہواورکہے کہ لوگ تواس طرف جارہے ہیں، اورلوگ تواس بات کے عادی ہیں اورمیں بھی ان میں سے ایک ہوں حالانکہ یہ طرز فکر ایک بہت بڑی مصیبت ہے، سابقہ لوگوں میں سے اکثریت کی تباہی وبربادی کا سبب یہی مریضانہ سوچ تھی۔اس کے برعکس
عقل مند آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنا محاسبہ کرے، حق کو مضبوطی سے تھام لےخواہ لوگوں نے اسے چھوڑ رکھا ہواور ان امورسےباز رہے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے خواہ لوگ ان کا ارتکاب کررہے ہوں کیونکہ حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:
﴿وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ (الانعام۶ /۱۱۶)
’’اوراكثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں)اگرتم ان کا کہنا مان لوگے تووہ تمہیں اللہ کے راستے سے بہکادیں گے ۔‘‘
اورفرمایا:
﴿وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ (یوسف۱۲ /۱۰۳)
’’اوربہت سے آدمی گوآپ کتنی ہی خواہش کریں، ایمان لانے والے نہیں ہیں۔‘‘
بعض سلف صالحین نے کیا خوب صورت بات کہی ہے کہ حق سے روگردانی نہ کرو خواہ حق پر چلنے والوں کی تعدادکتنی ہی کم کیوں نہ ہو اورباطل سے فریب نہ کھاؤ، خواہ باطل کی وجہ سے ہلا ک ہونے والوں کی تعدادکتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
میں اپنی اس نصیحت کو اب ان پانچ امور پر ختم کرتا ہوں جوتمام خیرو بھلائی کا سرچشمہ ہیں:
(۱)تمام قولی وعملی(فعلی)عبادتوں کو اخلاص کے ساتھ صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی کے لیے انجام دیا جائے، ہر طرح کے چھوٹے اوربڑے شرک سے اجتناب کیا جائے، یہ تمام واجبات میں سے سب سے بڑا واجب اورتمام امور میں سے سب سے