کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 459
نیز فرمایا:
﴿وَمَن يَتَّقِ اللّٰه يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ﴿٢﴾ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ (الطلاق۶۵ /۲۔۳)
’’ اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، وہ اس کے لیے(رنج ومحن سے)خلاصی کی صورت پیدا کردےگا ۔‘‘
مزیدفرمایا:
﴿إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ﴾ (القلم۶۸ /۳۴) ’’ بلاشبہ پرہیز گاروں کے لیے ان کے پروردگارکے ہاں نعمت کے باغ ہیں ۔‘‘
اورفرمایا:
﴿وَمَن يَتَّقِ اللّٰه يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا﴾ (الطلاق۶۵ /۵)
’’ اور جوشخص الله سےڈرے گا، وہ اس سے، اس کے گناہ دورکردےگااوراسےاجرعظیم بخشے گا ۔‘‘
اے مسلمانو!اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اطاعت وبندگی بجالاؤ، تمام حالات میں تقوی اختیار کرو، اپنے تمام اقوال، اعمال اورمعاملات میں اپنا محاسبہ کرتے رہا کرو، ان میں سے جو شریعت کے مطابق ہوں انہیں اختیار کیے رکھواورجو شریعت کے مخالف ہوں انہیں ترک کردوخواہ اس میں بظاہر کتنا ہی دنیوی فائدہ کیوں نہ ہو کیونکہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ دنیوی مال ودولت سے بہت بہتر اورباقی رہنے والا ہے ۔یاد رکھو کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے کسی چیز کو چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے یقینا اس سے بہتر چیز نواز دیتا ہے۔اگربندگان الٰہی اپنے رب کی اطاعت بجالائیں، اس کے تقوی کو اختیار کریں، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیں اوراس سے جس نے منع کیا ہے اس سے اجتنا ب کریں تواللہ تعالیٰ انہیں عزت، کامیابی وکامرانی اوررزق کی فراوانی عطافرمائے گا، مشکلات سے نکال دے گااوردنیا وآخرت میں سعادت ونجات سے سرفرازفرمائے گا۔
ہر وہ عقل مند جس میں ادنی سی بھی بصیرت ہواس سے یہ بات مخفی نہیں کہ آج مسلمانوں کی اکثریت قساوت قلبی اورآخرت سے روگردانی میں مبتلا ہوکر اسباب نجات سے غافل اوردنیا میں منہمک ہے اورحلال وحرام کی تمیز کے بغیر حرص وہوس کے ساتھ زیادہ سےزیادہ دنیا (دھن دولت وغیرہ )جمع کرنے اورانواع و اقسام کے لہوولعب اورغفلت ومدہوشی میں مبتلا ہے اور اس کا سبب صرف یہ ہے کہ دل آخرت سے غافل اوراللہ کے ذکر اوراس کی محبت سے خالی ہیں اوراس کی نعمتوں اورظاہری وباطنی نشانیوں میں غوروفکر سے کام نہیں لیتے، اس کی ملاقات کے لیے تیاری نہیں کرتے، اس کی بارگاہ اقد س میں کھڑے ہونے کا تصور نہیں کرتے اورنہ یہ خیا ل کرتے ہیں کہ بارگاہ الٰہی سے انہیں جنت میں جانےکی اجازت ملے گی یا جہنم رسید ہونے کا حکم!
مسلمانو!اپنی حقیقت کو پہچانو، اپنے رب کی بارگاہ اقد س میں توبہ کرو، دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرو، فرائض کی ادائیگی میں جلدی کرو، حرام امور سے اجتناب کرو تاکہ دنیا وآخرت میں عزت، امن ہدایت اورسعادت کی کامرانیوں سے ہمکنارہوسکو، دنیا ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے اوراسے آخرت پر ترجیح دینے سے باز آجاؤ کیونکہ یہ تو اللہ کے دشمنوں اورتمہارےکافرومنافق دشمنوں کی صفت ہے اوردنیوی واخروی عذاب کاایک اہم سبب بھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا:
﴿إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ يُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَاءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا﴾ (الانسان۷۶ /٢٧)