کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 458
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَـٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰه وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾ (البقرۃ۲ /۱۵۹) ’’ تحقیق جو لوگ ہمار ے حکموں اورہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے)چھپاتے ہیں باوجود یکہ ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے )لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کربیان کردیا ہے، ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ اورتمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں ۔‘‘ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’جو شخص نیکی کے کام کی طرف راہنمائی کرےاسے بھی عمل کرنےوالے کے برابر ثواب ملے گا۔‘‘ نبی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایاہے:’’جس نے کسی گمراہی کی طرف دعوت دی، اسے ان سب لوگوں کے گناہ کے برابر گناہ ہوگاجو اس پر عمل کریں گے اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ کی جائے گی ۔‘‘ ان بنیادی حقائق کو معلوم کرنے کے بعد میں، تمہیں اوراپنے آپ کو بھی یہ وصیت کرتا ہوں کہ ظاہر وباطن اورتنگی وخوشحالی ہر حال میں، اللہ سبحا نہ وتعالیٰ کے تقوی کو اختیار کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی وصیت ہے جیسا کہ ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّـهَ﴾ (النساء۴ /۱۳۱) ’’ جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، ان کو بھی اور(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !)آپ کو بھی ہم نے تاکیدی حکم کیا ہے کہ اللہ سےڈرتے رہو ۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں ارشادفرمایاکرتے ےتھے کہ’’میں تمہیں اللہ کے تقوی اورسمع وطاعت کے بجالانے کی وصیت کرتا ہوں ۔‘‘ تقوی ایک ایسا جامع کلمہ ہے جس میں خیر وبھلائی کی تمام صورتیں آجاتی ہیں اوراس کی حقیقت یہ ہے کہ ان تمام امور کو ادا کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے فرض قراردیا ہے، ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قراردیا ہے اورپھر یہ سب کچھ اخلاص ومحبت، ثواب کی امید اورعذاب کے خوف سے کیا جائے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کوتقوی کا حکم دیا ہے اور وعدہ فرمایا ہے کہ تقوی اختیار کرنے سے ان کے معاملات آسان ہوجائیں گے، مشکلات چھٹ جائیں گی، رزق میں کشادگی آجائے گی، گناہ معاف ہوجائیں گے اورجنت کی کامیابی وکامرانی ان کا مقدر بنے گی ۔ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَ‌بَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ (الحج۲۲ /۱) ’’ اے لوگو!اپنے پروردگار سے ڈرو، یقینا قیامت کا زلزلہ ایک حادثۂ عظیم ہے ۔‘‘ اورفرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰه وَلْتَنظُرْ‌ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰه ۚ إِنَّ اللّٰه خَبِيرٌ‌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ (الحشر۵۹ /۱۸) ’’ اےایمان والو!اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کل(یعنی قیامت)کے لیے کیاسامان بھیجا ہے؟اور(ہم پھر کہتے ہیں کہ)اللہ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے ۔‘‘