کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 457
﴿وَالْعَصْرِ ﴿١﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾ (العصر۱۰۳ /۱۔۳)
’’ عصر کی قسم!یقینا تمام انسان نقصان میں ہیں مگر وہ لوگ جوایمان لائے اورنیک عمل کرتے رہے اورآپس میں(ایک دوسرے کو ) حق (بات )کی تلقین اورصبر کی تاکید کرتے رہے ۔‘‘
اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دین نصیحت وخیرخواہی کا نام ہے ۔‘‘عرض کیا گیا کس کے لیے نصیحت وخیرخواہی؟فرمایا:’’اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلم حکمرانوں کے لیےاورعام مسلمانوں کے لیے ۔‘‘ (مسلم)
یہ محکم آیات اوریہ حدیث شریف تذکیر ونصیحت کی مشروعیت پر صریحا دلالت کرتی ہیں، نیز ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق بات کی تلقین کی جائے اوراس کی دعوت دی جائے کیونکہ اس سے مومنوں کو نفع حاصل ہوتا ہے، جاہلوں کوعلم حاصل ہوتا ہے گمراہوں کو راہنمائی ملتی ہے، غافل کو تنبیہ ہوجاتی ہے، بھولے ہوئے کو سبق آجاتا ہے، عالم کو عمل کی ترغیب حاصل ہوتی ہے، علاوہ ازیں اس میں اوربھی بہت سی مصلحتیں کارفرما ہیں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مخلوق کو اس لیے پیدا فرمایاکہ وہ اس کی عبادت واطاعت بجالائے اور رسولوں کو اس لیے مبعوث فرمایاکہ وہ اسے یاد دہانی کرائیں، جنت کی بشارت سنائیں اورجہنم کے عذاب سے ڈرائیں، ارشادباری تعالیٰ ہے:
﴿ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾(الذاریات۵۱ /۵۶)
’’ اورمیں نے جنوں اورانسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔‘‘
فرمایا:
﴿وَأَطِيعُوا اللّٰه وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ﴾ (التغابن۶۴ /۱۲)
’’ اوراللہ کی اطاعت کرواوراس کے رسول کی اطاعت کرو، اگرتم منہ پھیر لوگے توہمارےپیغمبرکے ذمے توصر ف پیغام کا کھول کھول کر پہنچادینا ہے ۔‘‘
مزید فرمایا:
﴿رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰه حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾ (النساء۴ /۱۶۵)
’’ (سب)پیغمبروں کو(اللہ نے)خوش خبری سنانے والے او ر ڈرانے والے بناکر(بھیجا تھا )تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر الزام کا موقعہ نہ رہے ۔‘‘
اورفرمایا:
﴿فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ﴾(الغاشیۃ۸۸ /۲۱)
’’ پس تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو ۔‘‘
ہر وہ شخص جس کے پاس علم ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ نصیحت کرے، اللہ تعالیٰ کے لیے ہمدردی وخیر خواہی کرے، حسب استطاعت دعوت الی اللہ کا کام کرے تاکہ وہ تبلیغ ودعوت کے فریضہ کو اداکرسکے، حضرات انبیاء علیہم السلام کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرسکے اورکتمان علم کے گناہ سے بچ سکے کہ اس جرم کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ وعید سنائی ہے: