کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 455
اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر کیا اورنماز کے لیے آتے ہیں تو سست وکاہل ہوکر اورخرچ کرتے ہیں توناخوشی سے ۔تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا، اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور(جب)ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی )وہ کافر ہی ہوں ۔‘‘ اورفرمایا: ﴿ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ ﴿١٢٣﴾ وَمَنْ أَعْرَ‌ضَ عَن ذِكْرِ‌ي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُ‌هُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ﴾ (طہ۲۰ /۱۲۳۔۱۲۴) ’’ پس جب میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئےتو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا۔وہ گمراہ ہوگا نہ تکلیف میں پڑے گااورجوشخص میری نصیحت سے منہ پھیرے گا، اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور روزقیامت ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے ۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ‌ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ﴾ (السجدۃ۳۲ /۲۱) ’’اوریقینا ہم ان کو(قیامت کے)بڑے عذاب کے سواعذاب دنیا کا بھی مزہ چکھائیں گے شاید(ہماری طرف)لوٹ آئیں ۔‘‘ اورفرمایا: ﴿إِنَّ الْأَبْرَ‌ارَ‌ لَفِي نَعِيمٍ ﴿١٣﴾ وَإِنَّ الْفُجَّارَ‌ لَفِي جَحِيمٍ﴾ (الانفطار۸۲ /۱۳۔۱۴) ’’ بے شک نیکوکارنعمتوں (کی بہشت)میں ہوں گے اوربدکردار دوزخ میں ۔‘‘ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ آیت عام ہےاورابراروفجارکے دنیاوآخرت کے حالات پرمحیط ہے کیونکہ مومن دنیامیں، قبرمیں اور آخرت میں نعمتوں سےفیض یاب ہوگا، خواہ دنیامیں اسے بظاہر فقرومرض اور دیگر مختلف مصائب کاہی کیوں نہ سامنا کرنا پڑا ہو، اسی طرح فاسق وفاجر اپنی دنیا میں، قبر میں اورآخرت میں جہنم ہی میں ہے خواہ دنیا میں وہ کیسی ہی دنیوی نعمتوں سے بہرہ ورکیوں نہ رہا ہوکیونکہ نعمت اور دولت تو دراصل اطمینان وسکون قلب اور دل کی نعمت وراحت کا نام ہے۔ پس مومن اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان، اس کی ذات گرامی پر اعتماد، اس سے استغاثہ وفریاد، اس کے حقوق کی ادائیگی اوراس کے وعدہ کی تصدیق کے باعث اطمینان قلب، انشراح صدر اور انبساط ضمیر کی دولت سے بہرہ ورہوتا ہے۔ فاسق وفاجر اپنے مریض دل، جہالت، تشکیک، اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی سے اعراض اور دنیوی لذتوں اوردلفریبیوں میں مشغولیت کے باعث ہمیشہ قلق واضطراب بلکہ عذاب میں مبتلا رہتا ہے اورپھر خواہش پرستی اورشہوت رانی کا نشہ اس کے دل کو اس بارے میں سوچنے اورسمجھنے سے بھی اندھا کردیتا ہے، لہذا اے مسلمانو!خبرداراورہوشیارہوکراس حقیقت کو جان لوکہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اسے خوب اچھی طرح سمجھواوراسے حرز جان بنالواورپھر اپنے رب کی ملاقات کے دن تک اس پر ا ستقامت کے ساتھ ڈٹ جاؤ، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ابدی وسرمدی نعمتوں سے فیض یاب ہوگے اورجہنم کے عذاب سے بچ جاؤگے، ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَ‌بُّنَا اللّٰه ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُ‌وا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ﴿٣٠﴾ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَ‌ةِ ۖ وَلَكُمْ