کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 454
آخرت میں) تکلیف دینےوالاعذاب نازل ہو ۔‘‘
ایسی بے شمار آیات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعظیم اوراسےمضبوطی سے تھامنا اوراس کی مخالفت سے اجتناب کرنا اورسنت کے مطابق عمل میں سستی اورکوتاہی سے پرہیز کرنا واجب ہے۔جو شخص بھی قرآن کریم میں تدبر اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ میں تفقہ سے کام لے گا اس کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ بند گان الٰہی کی بہتری وبھلائی، سعادت وکامرانی اور دنیا وآخرت کی کامیابی اورنجات کا انحصار اس بات پر ہے کہ قرآن کریم اورسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائے، ان کی تعظیم کی جائے اورتمام حالات میں صبرواستقامت کے ساتھ ان کے مطابق عمل بھی کیا جائے، ارشادباری تعالیٰ ہے :
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللّٰه يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾ (الانفال۸ /۲۴)
’’ اے اہل ایمان!اللہ اوراس کےرسول کاحکم قبول کروجب کہ رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں)بخشتا ہے اورجان رکھو کہ اللہ، آدمی اوراس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اوریہ بھی کہ تم سب اس کے روبروجمع کیے جاؤگے ۔‘‘
نیز فرمایا:
﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (النحل۱۶ /۹۷)
’’ جوشخص نیک اعمال کرے گا(خواہ)مردہویا عورت اور وہ مومن بھی ہو تو ہم اس کو (دنیا میں)پاک (اورآرام کی)زندگی سے زندہ رکھیں گے اور(آخرت میں)ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے ۔‘‘
مزید فرمایا:
﴿وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ (المنافقون۶۳ /۸)
’’ عزت تو صرف اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے اورایمانداروں کے لیے ہے لیکن منافق نہیں جانتے ۔‘‘
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ راہنمائی فرمائی ہے کہ حیات طیبہ، اطمینا ن وسکون قلب اور راحت وعزت صرف اسی شخص کو حاصل ہوگی جو اللہ اوراس کے رسول کے ارشادات پر لبیک کہے گااورقول وعمل سے اس پر استقامت کا مظاہرہ کرے گااورجو شخص کتاب اللہ وسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرے گا اور ان کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کے ساتھ مشغولیت اختیارکرے گا تو وہ ہمیشہ عذاب، شقاوت وبدبختی، غم واندوہ اورزندگی کی تنگی میں مبتلا رہے گا، خواہ وہ ساری دنیا کا مالک کیوں نہ بن جائے اورپھر جب دنیا سے رخصت ہوگا تودنیا کے عذاب سے بھی زیادہ سخت اورہولناک عذاب، جہنم کے عذاب سے اسے دوچارہونا ہوگا، والعیاذ باللہ!ارشادباری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللّٰه وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ ﴿٥٤﴾فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰه لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ﴾ (التوبۃ۹ /۵۴۔۵۵)
’’ اوران کے خرچ (اموال)کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی سوا اس کے کہ انہوں نے اللہ سے اور