کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 453
اختیار میں ہے ۔‘‘
تو اے مسلمانو!اپنے رب کی کتاب میں خوب تدبرکرو، کثرت سے اس کی تلاوت کرو، اس کے اوامرکی اطاعت بجالاؤ، نواہی سے اجتناب کرو، ان اخلاق واعمال کو پہچانو قرآن نے جن کی تعریف کی ہے، ان کی طرف لپکو اور ان سے اپنے آپ کوآراستہ کرلو اور ان اخلاق واعمال کوبھی معلوم کرو، قرآن نے جن کی مذمت کی ہے، جن کے ارتکاب پر وعید سنائی ہے، ان سے اجتناب کرتے ہوئے دورہوجاؤ، آپس میں بھی ایک دوسرے کو ان سے بچنے کی نصیحت کرو اور اپنے رب کی ملاقات کے وقت تک صبر کا مظاہر ہ کرو کہ اس سے تمہیں دنیا وآخرت میں عزت، کرامت، عظمت وشوکت، نجات وسعادت اورفوزوفلاح ہوگی۔
مسلمانوں کے لیے اہم واجبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو مضبوطی سے تھام لیں، اس میں بصیرت حاصل کریں، اس کی روشنی میں زندگی بسر کریں کیونکہ سنت نبوی وحی ثانی، کتاب اللہ کی تفسیر وتشریح اورقرآن مجید کے اجمال کی تفصیل ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں ارشاد فرمایاہے:
﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ (النحل۱۶ /۴۴)
’’ اورہم نے آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو(ارشادات)لوگوں کی جانب نازل فرمائے گئے ہیں آپ ان پر واضح کردیں اورتاکہ وہ غورکریں ۔‘‘
اورفرمایا:
﴿وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ﴾ (النحل۱۶ /۸۹)
’’ اورہم نےآپ پرایسی کتاب نازل کی ہےکہ(اس میں)ہرچیزکا بیان (مفصل) ہےاورمسلمانوں کےلیےہدایت، رحمت اوربشارت ہے ۔‘‘
مزید فرمایا:
﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰه أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللّٰه وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللّٰه كَثِيرًا﴾ (الاحزاب۳۳ /۲۱)
’’ یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین (عمدہ )نمونہ موجود ہے ہراس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ (سے ملاقات)اورقیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اوربکثرت اللہ تعالیٰ کاذکر کرتا ہے ۔‘‘
اورفرمایا:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰه ۖ إِنَّ اللّٰه شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (الحشر۵۹ /۷)
’’ جوچیز تم کو پیغمبردیں وہ لے لواورجس سے منع کریں(اس سے)بازرہواوراللہ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۔‘‘
اورفرمایا:
﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ (النور۲۴ /۶۳)
’’ جولوگ ان کی مخالفت کرتےہیں، ان کوڈرناچاہئےکہ(ایسانہ ہوکہ)ان پر(دنیامیں)کوئی آفت پڑجائےیا(وہ