کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 452
اورآپ نےحجۃالوداع میں عرفہ کےدن علی روؤس الاشھاد(تمام لوگوں کےسامنے)اپنےخطبہ میں ارشادفرمایا: ’’میں تم میں وہ چیزچھوڑکرجارہا ہوں کہ اگراسےمضبوطی سےتھامےرکھوگےتوکبھی گمراہ نہ رہوگےاوروہ ہےاللہ کی کتاب ۔‘‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےمذکورہ بالاآیات میں یہ فرمایاہےکہ اس نےقرآن مجیدکواس لیےنازل فرمایاہےکہ بندےاس میں غوروفکرکریں، اس سےنصیحت حاصل کریں، اس کی اتباع کریں اوراس کی روشنی میں دنیاوآخرت کی سعادت، عزت اورنجات کےاسباب تلاش کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبھی امت کی رہنمائی فرمائی کہ وہ قرآن کاعلم سیکھےاور وہ دوسروں کوبھی سکھائےاورفرمایاکہ سب سےبہتروہ لوگ ہیں جوقرآن کاعلم سیکھتےہیں اوراس کےمطابق عمل کرکے، اس کی اتباع کرکے، اس کےحدودکی پاسداری کرکے، اس کےمطابق فیصلہ کرکےاور اسے اپنا دستورومنشور بناکر لوگوں کوبھی اس کا علم سکھاتے ہیں۔ عرفہ کے دن ایک عظیم الشان اجتماع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےلوگوں کےسامنےاس حقیقت کوواضح فرمایاکہ جب تک وہ کتاب اللہ کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے اوراس کی تعلیمات پر عمل کرتے رہیں گے کبھی گمراہ نہ ہوں گے ۔سلف صالحین اوراس امت کے صدر اول کے مسلمان نے جب قرآن مجید کی تعلیمات اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک پر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں عزت وسربلندی عطا فرمائی اورزمین کی حکومت وخلافت کا انہیں وارث بنادیا جیسا کہ اس نے اپنے حسب ذیل ارشادمیں یہ وعدہ فرمایاہے کہ: ﴿وَعَدَ اللّٰه الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْ‌تَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِ‌كُونَ بِي شَيْئًا﴾ (النور۲۴ /۵۵) ’’ جولوگ تم میں سے ایمان لائے اورنیک کام کرتے رہے، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادےگاجیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اوران کے دین کو، جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے، مستحکم و پائیدارکرےگا اورخوف کےبعد ان کو امن بخشے گا۔وہ میری عبادت کریں گے اورمیرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے ۔‘‘ اورفرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُ‌وا اللّٰه يَنصُرْ‌كُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ (محمد۴۷ /۷) ’’ اے اہل ایمان!اگر تم اللہ (کے دین)کی مددکروگےتووہ بھی تمہاری مددکرے گااورتم کو ثابت قدم رکھے گا ۔‘‘ مزید فرمایا: ﴿وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللّٰه مَن يَنصُرُ‌هُ ۗ إِنَّ اللّٰه لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٤٠﴾ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُ‌وا بِالْمَعْرُ‌وفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ‌ ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ‌﴾ (الحج۲۲ /۴۰۔۴۱) ’’ اورجوشخص اللہ (کے دین)کی مددکرتا ہے، اللہ اس کی مددضرورکرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ زبردست قوت اورغلبے والا ہے، یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس(قدرت واختیار)دیں تو نماز قائم کریں، زکوۃ اداکریں اورنیک کام کرنے کا حکم دیں اوربرے کاموں سے منع کریں اورسب کاموں کا انجام اللہ ہی کے