کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 449
جن تک بات کو پہنچایا گیا ہو سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں ۔‘‘ لہذا حکام، علماء، تجاراوردیگرتمام امت پرواجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس دین کو پہنچائیں، صاف اورشگفتہ اسلوب میں دنیا میں مستعمل زندہ زبانوں میں اسے آگے پہنچائیں اوراسلام کے محاسن، حکمتوں، فوائد اورحقیقت کی ایسے دلنشین انداز میں تشریح کریں کہ دشمنان اسلام انہیں جان لیں اورجاہل بھی انہیں پہچان لیں ۔اسلام کی طرف رغبت والوں کو بھی ان کاخوب خوب علم ہوجائے ۔واللہ ولی التوفیق۔ اس ملاقات کے اختتام پر میں پاکستان، بنگلہ دیش اورہر جگہ بسنے والے اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت میں یہ نصیحت کروں گا کہ وہ اللہ کے تقوی کو اختیار کریں، اس کی شریعت کے مطابق عمل کریں، اللہ تعالیٰ نے جن فرائض و واجبات کوعائد کیا ہے، انہیں بجالائیں، جن امور کو حرام قراردیا ہے انہیں ترک کردیں، اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی کے ساتھ شرک سے اجتناب کریں خواہ وہ کم ہویا زیادہ، چھوٹا ہویا بڑا اورتمام حالات میں عبادت کو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے اداکریں اورمردوں سے مرادیں مانگنے اور ان سے استغاثہ کرنے سے جس میں آج کل بہت لوگ مبتلا ہوگئے ہیں، سخت پرہیز کریں۔خواہ ان کا تعلق انبیاءعلیہم السلام سے ہویا اولیاء سے اسی طرح آج بہت سے لوگ درختوں، پتھروں، بتوں اوردیگرجمادات سے جو مرادیں مانگتے ہیں، میں اس سے بچنے کی بھی تلقین کرتا ہوں کیونکہ عبادت توصرف اورصرف اللہ تعالیٰ کاحق ہے اوراس میں اس کا کوئی شریک نہیں جیسا کہ اس نے فرمایا ہے: ﴿ وَقَضَىٰ رَ‌بُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ﴾(الاسراء۱۷ /۲۳) ’’ اور تمہارے پروردگار نے ارشادفرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ اورفرمایا: ﴿وَمَا أُمِرُ‌وا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰه مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ﴾ (البینۃ۹۸ /۵) ’’ اوران کو حکم تویہی ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں(اوریکسوہوکر)۔‘‘ نیزفرمایا: ﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللّٰه أَحَدًا﴾ (الجن۷۲ /۱۸) ’’ اوریہ مسجدیں (خاص)اللہ کی ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کسی اورکی عبادت نہ کرو ۔‘‘ تمام جنوں اورانسانوں پریہ واجب ہےکہ عبادت کوصرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی کےلیےخاص کردیں، اس حق کواداکریں جونمازوغیرہ کی صورت میں اس نےعائدکیاہے۔اللہ تعالیٰ نےجن امورکوحرام قراردیاہےان کےارتکاب سےبچیں ایک دوسرےکوحق اورصبرکی وصیت کریں، جہاں کہیں بھی ہوں نیکی وتقوی کےکاموں میں ایک دوسرےسےتعاون کریں، اللہ تعالیٰ کےدین میں سمجھ بوجھ حاصل کریں، قرآن مجیدکی گہرےتدبرکےساتھ تلاوت کریں، اسے سمجھنے کی پوری پوری کوشش کریں اور پھراس کےمطابق عمل بھی کریں کہ کتاب اللہ سراپا ہدایت و روشنی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےحجۃالوداع کے خطبہ میں ارشادفرمایاتھا:’’میں تم میں وہ چیزچھوڑکرجارہاہوں کہ اگراسےمضبوطی سےتھامےرہوگےتوکبھی گمراہ نہ ہوگےاوروہ ہےکتاب اللہ ۔‘‘اورفرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ﴾(الاسراء۱۷ /۹) ’’ یقینایہ قرآن وہ راستہ دکھاتاہےجوسب راستوں سےزیادہ سیدھاہے ۔‘‘