کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 448
افغانستان کےمسلمان ایک ایسے جھگڑالو اور خبیث دشمن سےبرسرپیکارہیں جوسب سےبڑا کافراورسب سےبڑاکمینہ ہےاورسب سےزیادہ طاقتور بھی۔ مادی طورپرمقابلہ کیاجائےتوافغانیوں اور روسیوں میں کوئی نسبت ہی نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سےنصرت اورتائیدوحمایت ہمارے مجاہد بھائیوں کے شامل حال ہے۔تمام مسلمانوں پربھی یہ فرض ہےکہ وہ اپنے ان بھائیوں کی مددکریں۔اور دامےدرمےسخنےقدمےہرطرح سے مدد کریں، روئےزمین کےمسلمانوں پر اپنے ان مسلمان بھائیوں کی مددکرنافرض ہے۔حکومت سعودی عرب نےبھی اپنےعوام سےکہاہےکہ وہ اپنےبھائیوں کی مدد کریں۔الحمدللہ سعودی عوام نے اپنے بھائیوں کی مالی امدادکےسلسلہ میں خوب بڑھ چڑھ کرحصہ لیاہےاور یہ سلسلہ ابھی تک بدستورجاری وساری ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوتوفیق عطافرمائےکہ ہم اپنےمجاہداورمہاجربھائیوں تک یہ امداد جلدسےجلد پہنچا دیں کیونکہ انہیں اس کی شدید ضرورت ہے اور ان کی مدد کرنا ہم سب پرفرض ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیشہ وہ ہمیں ان کی مددکی توفیق عطافرمائے، ہمارےبھائیوں کی مدد فرمائے اور انہیں اپنےدشمن کے مقابلہ میں نجات، سعادت اورنصرت سے سرفراز فرمائے، دشمنان اسلام خواہ کہیں بھی ہوں انہیں ذلت ورسوائی سےدوچارکرے، تباہ وبربادکرے، ان کےمقابلہ میں مسلمانوں کو فتح ونصرت سےہم کنار فرمائے اور ان کی مددکرنے والوں کو بے پایاں اجروثواب سے نوازے، انه خير مسئول۔
سوال : عصرحاضرمیں دعوت الی اللہ کےمیدان میں کامیابی حاصل کرنےکےکیاطریقےہیں؟
جواب : عصرحاضرمیں کامیاب اورسب سےنافع طریقہ یہ ہےکہ ذرائع ابلاغ سےکام لیاجائے، ذرائع ابلاغ کےاستعمال کا طریقہ بہت کامیاب ہے۔یہ دو دھاری ہتھیار ہے، اگرذرائع ابلاغ کودعوت الی اللہ اورلوگوں کی رہنمائی کےلیےاستعمال کیاجائے اور ریڈیو، اخبارات اور ٹیلی ویژن کواس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک مؤثر ذریعہ ہے اورپھراس طریقہ سےوہ اس سےمستفیدہوسکتےہیں۔اس طریقہ کو استعمال کرنےسےغیرمسلم بھی اسلام کو سمجھنےاوراس کےمحاسن اور خوبیوں کوجاننےلگیں گےاور وہ بالآخرجان لیں گےکہ دنیا و آخرت میں کامیابی کاراستہ صرف اسلام ہی ہے۔
وعاۃومبلغین اورمسلمان حکمرانوں پربھی یہ واجب ہےکہ دعوت دین کے کام کےلیےصحافت، ریڈیو، ٹیلی ویثرن، مجلسوں اورمحفلوں میں تقریروں اور جمعۃالمبارک کےعلاوہ ہراس طریقےکو استعمال میں لائیں جس سےلوگوں تک حق کوپہنچاناآسان ہواورپھراس مقصدکی خاطرتمام زبانوں کواستعمال میں لایا جائے تاکہ دنیا بھرکےلوگوں کےپاس دین کی دعوت اور انسانیت کی ہمدردی وخیرخواہی کایہ پیغام ان کی اپنی اپنی زبانوں میں پہنچ سکے۔ان تمام علماء، مسلمان حکام اور دعاۃ ومبلغین پریہ فرض ہےجن کواس کی استطاعت ہوتاکہ اطراف واکناف عالم میں بسنےوالی دنیابھرکی تمام اقوام کےپاس حق کایہ پیغام ان کی اپنی اپنی زبانوں میں پہنچ سکےاوریہی وہ بلاغ ہےجس کااللہ تعالیٰ نےاپنےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم دیاتھاکہ:
﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ﴾(المائدۃ۵ /۶۷)
’’ اےپیغمبر!جوارشادات اللہ کی طرف سےآپ پرنازل کیےگئےہیں سب لوگوں کوپہنچادو ۔‘‘
رسول صلی اللہ علیہ وسلم پریہ پہنچادینا فرض تھا، اسی طرح دیگر تمام انبیاءعلیہم السلام پر بھی دین کو پہنچادینا فرض تھا، حضرات انبیاء کرام کے پیروکاروں پربھی یہ ابلاغ فرض ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھاکہ’’میری طرف سے پہنچادوخواہ ایک آیت ہی ہو ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے توارشادفرماتے :’’جو یہاں موجود ہے، وہ اس تک پہنچادے جو موجود نہیں کیونکہ کئی لوگ