کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 447
کرنےسےاجتناب کریں تاکہ ان کی دسیسہ کاریوں سےمحفوظ رہ سکیں اوراپنےباطل افکارونظریات کےساتھ مسلمانوں کوکوئی فریب نہ دےسکیں واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ولی التوفیق۔
یہ سب کچھ جوکہاگیااس کاتعلق جزیرۃالعرب کےعلاوہ دیگرممالک سےہےجہاں تک جزیرۃالعرب کاتعلق ہےیہاں کےحوالےسے واجب یہ ہےکہ یہاں غیرمسلموں کوآنےسےروکاجائےاوریہاں کسی بھی غیرمسلم کونہ رہنےدیاجائے۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےمنع فرمایاہےکہ یہاں کسی غیرمسلم کوباقی رہنےدیاجائے، آپ نےفرمایاتھاکہ یہاں اب صرف اسلام ہی کوباقی رہنےدیاجائےگا، یہودیوں اورعیسائیوں وغیرہ کوجزیرۃالعرب سےنکال دیا جائے، لہٰذا وہ یہاں کسی ناگزیرضرورت ہی کی وجہ سےآسکتےہیں اورجب یہ ضرورت پوری ہوجائےتوپھرانہیں یہاں سےنکال دیاجائےجیساکہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نےغیرمسلم تاجروں کواجازت دی تھی کہ وہ یہاں صرف ایک محدودمدت ہی کےلیےآسکتےہیں اور اس مدت کےپوراہونےپرپھراپنےملکوں میں واپس جانا ہوگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےیہودیوں کوبھی محض کام کےلیےخیبرمیں رہنےکی اجازت دی تھی کیونکہ اس کی ضرورت تھی اورجب یہ ضرورت باقی نہ رہی تو حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نےانہیں جلاوطن کردیاتھا۔حاصل کلام یہ کہ جزیرۃ العرب میں دو دینوں کوبرقراررکھناجائزنہیں ہےکیونکہ یہ اسلام کامرکز اورسرچشمہ ہے، یہاں کسی وقت ضرورت ہی کی وجہ سےمشرکوں کو رہنےکی حاکم وقت اجازت دےسکتاہے جیساکہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے تاجروں کو اجازت دی اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےخیبرکےیہودیوں کواجازت دی تھی اورجب یہ ضرورت پوری ہوگئی، مسلمان یہودیوں سے بےنیاز ہوگئے تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نےانہیں جلاوطن کردیاتھا۔
جزیرۃالعرب میں رعایاپربھی یہ واجب ہےکہ اس مسئلہ میں حاکم وقت کی مددکریں اوراس کےساتھ مل کرکوشش کریں کہ مشرکوں کویہاں نہ بلایاجائے، ان کےساتھ معاہدہ نہ کیاجائے، کوئی بھی کام ان سےنہ لیاجائےاورہرکام کےلیےمسلمان کارکنوں ہی کواستعمال کیاجائےاورمسلمانوں میں سےبھی صرف انہیں کومنتخب کیاجائےجواخلاق اور دین کےاعتبارسےدوسروں سےبہترہوں کیونکہ کچھ لوگ محض نام کےتومسلمان ہوتےہیں مگرحقیقت میں نہیں، لہٰذاکارکن بنانے اور بلانےوالےکوچاہئےکہ خوب غوروفکرسےکام لیں اورصرف ایسےکارکنوں کوبلائیں جواچھےمسلمان بھی ہوں۔واللّٰہ المستعان۔
سوال : حرمین شریفین آنےوالےمسلمان یہ دیکھ کرقلق واضطراب میں مبتلا ہوجاتےہیں کہ یہاں آنےوالےغیرمسلموں کی تعدادمیں آئے دن اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہےتوکیاآپ نےاس کےخطرات سےحکومت کوآگاہ کیاہے؟
جواب : ہاں ان مشرکوں کی یہاں اس کثرت سےآمدکےخطرات کومسلمان محسوس کرتےہیں۔حاکم وقت کوبھی متنبہ کردیاگیاہےکہ واجب یہ ہےکہ جزیرۃالعرب کوکافروں سےپاک کردیاجائےاورانہیں یہاں آنےاور رہنےکی اجازت نہ دی جائے، حاکم وقت نےبھی اتفاق فرمایاہےکہ ان کی تعدادکوکم سےکم کردیاجائےگا، اللہ تعالیٰ انہیں توفیق دے۔انہوں نےوعدہ کیاہےکہ وہ اس مسئلہ کوپوری پوری اہمیت دیں گےاوریہاں صرف انہی غیرمسلموں کوبلائیں گے، جن کویہاں بلانےکی ضرورت اورشدیدحاجت ہوگی۔اللہ تعالیٰ سےدعاہےکہ وہ ہمیں ہراچھےکام کی توفیق ونصرت سےنوازے۔
سوال : جہادافغانستان کےحوالہ سےہماری ذمہ داریاں کیاہیں اورآپ نےاس سلسلہ میں اب تک کیاکوششیں سرانجام دی ہیں؟
جواب : لاریب!افغانستان میں جہاد ایک اسلامی جہادہے، لہٰذا تمام مسلمانوں پراس کی تائیدوحمایت فرض ہےکیونکہ