کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 446
یہ ہے کہ ان سے کہا جائے کہ وہ دین پر قائم رہیں، شریعت کی حفاظت کریں اورنیکی وتقوی کے کاموں میں ایک دوسرےکے ساتھ تعاون کریں، اس سے ان کی صفوں میں اتحاد پیدا ہوجائے گا، ان کا شیرازہ متحد ہوجائے گااوریہ اپنے دشمنوں کےخلاف ایک جسم، ایک عمارت اورایک لشکر کی طرح ہوجائیں گے اوراگرہرایک شخص اپنے مکتب فکر اوراپنے امام کے لیے تعصب سے کام لے خواہ اس میں سلف امت کی مخالفت ہی کیوں نہ لازم آتی ہوتویہ راہ انتشاراورخلفشارکی طرف لے جاتی ہے ۔
علماء اسلام، مبلغین اسلام اورحکام اسلام پر یہ ضروری ہے کہ کائنات کے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے حق پر متفق ومتحد ہوجائیں اوراسے مضبوطی سے تھام کر استقامت کا مظاہر ہ کریں اورسب کا مقصود ومطلوب اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، کتاب اللہ وسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیادپر اتفاق واتحاد اورہر اس چیز سے اجتناب ہوجو کتاب وسنت کے منافی ہو۔صرف اورصرف یہی وہ راستہ ہے جسے اختیار کرکے مسلمانوں کو یکجا کیا جاسکتا ہے، ان کی صفوں میں اتفاق واتحادپیداکیا جاسکتا اورانہیں ان کے دشمنوں پر فتح ونصر ت سے ہمکنار کی جاسکتا ہے۔واللّٰہ ولی التوفیق۔
سوال : اسلامی معاشرہ میں موجود غیر مسلموں کے حوالہ سے کن اقدامات کو بروئے کارلانا ضروری ہے تاکہ اسلامی تشخص، اسلامی تہذیب وثقافت اوراسلامی اخلاق وکردارکے تحفظ کا اہتمام کیا جاسکے؟
جواب : اس کے لیے یہ ازبس ضروری ہے کہ غیر مسلموں کو خیر وہدایت کی دعوت دی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس ہدایت اور دین حق کو لے کر دنیا میں تشریف لائے اس کی اس اسلوب وانداز میں تشریح کی جائے جس کو غیر مسلم سمجھ سکیں، نیز ان کے سامنے اسلام کے محاسن کو بھی بیان کیا جائے شاید اس طرح وہ دائرہ اسلام میں آجائیں، ممکن ہے کہ اس طرح وہ شرک، جہالت اورظلم کی تاریکیوں سے نکل کر توحید، ایمان اورعدل اسلام کے نور کی طرف آجائیں۔ اگر یہ لوگ حق کو قبول کرکے اللہ تعالیٰ کے دین پر استقامت کا مظاہر ہ کریں توالحمد للہ، وگرنہ اہل وطن نہ ہونے کی صورت میں انہیں ان ممالک کی طرف بھیج دیا جائے اوراہل وطن ہونے کی صورت میں ان سے کفروشرک سے توبہ کرائی جائے، توبہ کرلیں توٹھیک ورنہ انہیں قتل کردیا جائے بشرطیکہ وہ اہل کتاب یا مجوسی نہ ہوں اوراگر ان کا تعلق اہل کتاب یا مجوسیوں سے ہو توپھر توبہ نہ کرنے کی صورت میں ان سے جزیہ لیا جائے اورذلت ورسوائی کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جائے حتی کہ یہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں اورلوگوں کو بھی ان کا مشر ف بہ اسلام ہونا معلوم ہوجائے تاکہ وہ ان کے شر سے بھی محفوظ رہ سکیں۔
مسلمان معاشرےمیں مل جل کررہنےوالےکفارکےشرسےمحفوظ رہنےکاسب سےبہترطریقہ یہی ہےکہ انہیں اللہ تعالیٰ کےدین کی دعوت دی جائے، احسن اندازکےساتھ ان کادین اسلام کےساتھ تعارف کروایاجائے، اسلام کےمحاسن کی اچھےاسلوب میں ان کےسامنےوضاحت کی جائےاوربتایاجائےکہ اسلام کس قدرمبنی عدل وانصاف دین ہےکہ اسلام قبول کرنےکےبعدان کےبھی وہی حقوق ہوں گےجومسلمانوں کےہیں، ہوسکتاہےکہ اس طرح دعوت دینےسےوہ حق کوقبول کرلیں اورباطل کوچھوڑکردین حق، ہدایت اورسعادت کوقبول کرلیں۔
یہ اس صورت میں ہےجب مسلمانوں کواس کی طاقت ہواوراگرانہیں طاقت حاصل نہ ہوتوپھرانہیں چاہئےکہ خوداللہ تعالیٰ سےڈریں، اپنےدین پراستقامت کےساتھ عمل کرتےرہیں، دشمنوں کےشرسےبچنےکی کوشش کریں، انہیں اللہ تعالیٰ کےدین کی دعوت دینےمیں پوری پوری جدوجہدکریں اوران کےساتھ اختلاط، دوستی، محبت اورمشابہت اختیار