کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 442
ہے ۔‘‘ اس سے ہدف ایک ہوجائے گا، کوششیں مجتمع ہوں گی، حق کو نصرت حاصل ہوگی اورباطل شکست سے دوچارہوجائے گا مگر یہ سب کچھ اسی صورت میں ہوگا جب اللہ تعالیٰ سے مددحاصل کی جائے، توفیق طلب کرنے کے لیے صرف اورصرف اسی کی طرف توجہ کی جائے اورخواہشات کی پیروی سے اجتناب کیا جائے گا، ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ‌ هُدًى مِّنَ اللَّـهِ﴾ (القصص۲۸ /۵۰) ’’ پھراگریہ تمہاری بات قبول نہ کریں توجان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اوراس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی و رسول حضرت داود علیہ الصلاۃ والسلام سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: ﴿يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْ‌ضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ (ص۳۸ /۲۶) ’’ اے داود!ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تولوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرواورخواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں اللہ کے رستے سے بھٹکادے گی ۔‘‘ سوال : عالم اسلام میں اس وقت نوجوانوں میں اسلامی بیداری کی جو تحریک ہے، اس حوالہ سے آپ کے کیا ارشادات ہیں؟ جواب : یہ بیداری ہر مسلمان کے لیے باعث مسرت ہے، اسے اسلامی تحریک یا اسلامی تجدید ونشاط کانا م بھی دیا جاسکتا ہے، لہذا واجب ہے کہ اس تحریک کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے اوراسے مکمل طورپر کتاب وسنت سے وابستگی کی طرف موڑدیا جائے اورقائدین ہوں یا کارکن انہیں غلو اورافراط سے روکا جائے کیونکہ ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ﴾ (النساء۴ /۱۷۱) ’’ اے اہل کتاب اپنے دین(کی بات)میں حد سے نہ بڑھو ۔‘‘ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان ہے کہ’’دین میں غلو سے بچو کیونکہ پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے تباہ وبربادکردیا تھا۔‘‘ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ’’دین میں غلو سے کام لینے والے ہلاک ہوگئے، دین میں حد سے بڑھ جانے والےہلاک ہوگئے، دین میں حد سے تجاوز کرنے والے تباہ وبربادہوگئے ۔‘‘اس تحریک سے وابستہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھیں اس سے قلوب واعمال کی اصلاح کی توفیق طلب کرتے رہیں اورحق پر ثابت قدم رہنے کی دعاکرتے رہیں، قرآن مجید کی خوب تدبر اورغوروفکر کے ساتھ تلاوت کریں اورسنت مطہرہ کے مطابق عمل کریں کہ سنت مطہرہ دین کا دوسرابڑا ماخذ بھی ہے اورکتاب اللہ کی تفسیر بھی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُ‌ونَ﴾ (النحل۱۶ /۴۴) ’’ اورہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو(ارشادات) لوگوں کی جانب نازل کیے گئے ہیں آپ وہ کھول کھول کربیان فرمادیں تاکہ وہ غورکریں ۔‘‘ نیز فرمایا: