کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 441
(التوبۃ ۹ /١٠٠)
’’ جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے )پہلے(ایمان لائے)مہاجرین میں سے بھی اورانصار میں سے بھی اورجنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے خوش (راضی)ہوگیااوروہ اللہ سے خوش ہیں اوراس نے ان کے لیے باغات تیار کیے ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں(اور)وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔‘‘
جو سلف صالح کی مخالفت کرے اوران کے راستے پر نہ چلے تواس نے ان کی پیروی نہ کی تووہ ان کے ان متبعین میں شامل نہ ہوگا جن سے اللہ خوش ہے متاخرین کو اس بات کا بھی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس بات کی مخالفت کریں، جس پر پہلے علماء کا اجماع ہوچکا ہو کیونکہ اجماع حق ہے اور ان اصول ثلاثہ میں سے ایک ہے جن کی طرف رجو ع کرنا واجب ہےاورجن کی مخالفت کرنا ہرگز ہرگز جائز نہیں۔یہ اصول ثلاثہ ہیں:(۱)کتاب اللہ (۲)سنت رسول اللہ اور(۳)اجماع ۔علماءجب کسی مسئلہ پر اجماع کرلیں تویہ اس طائفہ منصورہ میں شامل ہوجاتے ہیں جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ وہ ہمیشہ حق پر رہے گا۔دین میں تفقہ(سمجھ بوجھ)سے کام لینااورمسلمانوں میں پیش آنے والے ایسے نئے نئے مسائل کا شرعی طریقوں کے مطابق حل تلاش کرنا، جن کے بارے میں پہلے علماء نے کلام نہیں کیا، یہ بھی حق ہے اوراس میں سابقہ علماء کی کوئی مخالفت بھی نہیں کیونکہ سابق والا حق تمام علماء کی یہی وصیت ہے کہ کتاب وسنت پر تدبر کرکے ان سے مسائل کا استنباط کیا جائے اورپیش آنے والے نئے مسائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کرکے حل تلاش کیا جائے۔
یہ تجدید سابقہ علماء کی مخالفت نہیں ہے بلکہ یہ تجدید تو انہی کے نقش قدم پر چلنے اوران کے اصولوں پر عمل کرنے کے مترادف ہے، اسی سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادگرامی بھی ہے کہ ’’جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیرو بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تواسے دین میں فقاہت عطافرمادیتا ہے ۔‘‘ (متفق علیہ)نیز یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستہ پر چلے تواللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستہ کو آسان بنادیتا ہے۔ (صحیح مسلم)واللّٰہ ولی التوفیق۔
سوال : داعیان دین میں بعض اوقات اختلاف بھی پیدا ہوجاتے ہیں، جن کی وجہ سے ملاقات کے بھی بہت سے مواقع ختم ہوجاتے ہیں بلکہ اس سے دین اسلام کی دعوت وتبلیغ کا عمل بھی معطل ہوجاتا ہے اوربہت سے فتنے، اختلافات اورجھگڑوں کی بھی کئی صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں تواس حوالہ سے دعاۃ (دعوت دینے والوں )کے لیے آپ کے کیا ارشادات اورنصائح ہیں؟
جواب : میری داعیان دین کے لیے نصیحت یہ ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ صرف اللہ وحدہ کے لیے کام کریں، نیکی وتقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اوراپنے اختلافات ختم کرنے کے لیے کتاب وسنت کے فیصلوں پر متفق ہوجائیں تاکہ حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ پر عمل پیرا ہوسکیں:
﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰه وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰه وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾(النساء۴ /۵۹)
’’ اوراگرکسی بات میں تمہاراآپس میں اختلاف پیدا ہوجائے تواگراللہ اورروز آخرت پر ایمان رکھتے ہوتواس میں اللہ اوراس کے رسول (کے حکم)کی طرف رجوع کرو۔یہ بہت اچھی بات ہے اوراس کامآل(انجام)بھی اچھا