کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 440
دوسرے کو حق کی وصیت اور(۴)ایک دوسرے کو صبر کی وصیت ! ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ فرنٹ کے اراکین کو ان اخلا ق کریمانہ کی توفیق عطافرمائے، استقامت سےنوازے اورفتح مبین، عظیم کامیابی اوربہترین انجام سے سرفرازفرمائے! سوال : ’’سابقہ لوگ بھی انسان تھے، ہم بھی انسان ہیں ‘‘ یہ ایک فقہی قول ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سابقہ لوگوں کے سامنے ان کے دورکے مسائل تھے اورہمارے سامنے ہمارے دورکے جدید مسائل ہیں لیکن کیا خیال ہے کہ جو لوگ تجدیدفقہ کی دعوت کے خلاف ہیں، وہ اس اصولی ادب کو تسلیم نہیں کرتے؟ جواب : اس عبارت میں اجمال واحتمال ہے، اگراس سے مراد یہ ہے کہ متاخرین پر بھی یہ واجب ہے کہ وہ اللہ کے دین کی نصر ت اورشریعت کی تحکیم کے بارے میں اجتہادسےکام لیں اورسلف صالحین کےعقیدہ واخلاق کی تائیدوحمایت کریں تویہ بات حق ہےکیونکہ تمام مسلمانوں پرواجب ہےکہ وہ اتباع کتاب وسنت اورہرچیزمیں ان کےمطابق عمل کےبارےمیں سلف صالح کےنقش قدم پرچلیں اورجس مسئلہ میں لوگوں میں اختلاف ہوتواس کےحل کےلیےکتاب وسنت ہی کی طرف رجوع کریں تاکہ مندرجہ ذیل ارشادات باری تعالیٰ پرعمل ہوسکے۔ ﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللّٰه وَالرَّ‌سُولِ﴾ (النساء۴ /۵۹) ’’ اوراگرکسی بات (مسئلہ)میں تمہاراآپس میں اختلاف پیدا ہوجائے تواس میں اللہ اوراس کے رسول (کے حکم)کی طرف رجوع کرو ۔‘‘ اورفرمان باری تعالیٰ : ﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ﴾ (الشوری۴۲ /۱۰) ’’ اورتم جس بات (مسئلہ) میں اختلا ف کرتے ہو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے (ہوگا)۔‘‘ اوراگراس قول سے مراد یہ ہے کہ متاخرین دین میں ایسی تجدید کر یں جو عقیدہ واخلاق یا احکام میں سلف کے طرز عمل کے مخالف ہو تو یہ جائز نہیں کیونکہ یہ حسب ذیل ارشادباری تعالیٰ کے خلاف ہے: ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰه جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّ‌قُوا﴾ (آل عمران۳ /۱۰۳) ’’ اور تم سب مل کراللہ کی(ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنااور، متفرق نہ ہونا۔‘‘ نیز یہ طرز عمل حسب ذیل فرمان باری تعالیٰ کے بھی خلاف ہوگا: ﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّ‌سُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ‌ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرً‌ا﴾ (النساء۴ /۱۱۵) ’’ اورجو شخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبرکی مخالفت کرے اورمومنوں کے راستے کے سوادوسرے راستے پر چلےتوجدھر وہ چلتا ہے، ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گےاور(قیامت کے دن)جہنم میں داخل کریں گے اوروہ بری جگہ ہے ۔‘‘ سلف صالح کے نقش قدم پر چلنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِ‌ينَ وَالْأَنصَارِ‌ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّ‌ضِيَ اللّٰه عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾