کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 439
یہودیوں کی طرف بھیجا اورحکم دیا کہ انہیں اسلام کی دعوت دیں اوربتائیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے کیا حقوق واجب ہیں اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی فرمایا:’’اللہ کی قسم !اگر آپ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت عطافرمادے تویہ آپ کے لیے سرخ اونٹوں کی دولت سے بھی بہتر ہے ۔‘‘صحیح مسلم میں حضرت ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی کے کسی کام کی طرف راہنمائی کرے، اسے اس نیکی کر نے والے کے برابر اجروثواب ملتا ہے‘‘صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تحقیق جو شخص ہدایت کی طرف دعوت دے تواسے بھی اس ہدایت پر عمل کرنے والوں کے برابراجروثواب ملے گاجب کہ عمل کرنے والوں کے اجروثواب میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔‘‘ امام احمد اورنسائی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت کیا ہےاور امام حاکم نے اس روایت کو صحیح قراردیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مشرکوں کے ساتھ اپنے مال، جان اورزبان سے جہادکرو ‘‘اس مضمون کی اوربھی بہت سی آیات واحادیث ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ فرنٹ کو اس بات کی توفیق بخشے جس میں حق کےلیے نصرت اورغلبہ ہو، باطل کا قلع قمع اورداعیان باطل کے لیے ذلت و رسوائی ہو!
فرنٹ کو میری یہ نصیحت بھی ہے کہ یہ اپنی صفوں کو ہر اس چیز سے پاک کرے جو اللہ تعالیٰ کی شریعت مطہرہ کے خلاف ہو اورشریعت مطہرہ پر استقامت وثابت قدمی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کے لیے ایک دوسرے کو ہمدردی وخیر خواہی کے جذبات کے ساتھ وصیت بھی کی جائے اوراگر کسی بات میں اختلاف ہوتواسے دورکرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰه وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰه وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰه وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾(النساء۴ /۵۹)
’’ اے اہل ایمان !اللہ اوراس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی فرماں برداری کرواورجو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اوراگرکسی بات میں تمہاراآپس میں اختلاف ہوجائے تواگراللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہوتواس میں اللہ اوراس کے رسول (کے حکم)کی طرف رجوع کرو۔یہ بہت اچھی بات ہے اوراس کا مآل (انجام) بھی اچھا ہے ۔‘‘
نیزفرمایا:
﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ﴾ (الشوری۴۲ /۱۰)
’’ اورتم جس بات میں اختلا ف کرتے ہو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے (ہوگا)۔‘‘
اورفرمایا:
﴿وَالْعَصْرِ ﴿١﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾ (العصر۱۰۳ /۱۔۳)
’’ عصر کی قسم!یقینا تمام انسان نقصان میں ہیں مگر وہ لوگ جوایمان لائے اورنیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات )کی تلقین اورصبر کی تاکید کرتے رہے۔‘‘
اس عظیم صورت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ بیان فرمایاہے کہ کامیابی، سعادت اورخسارے سے محفوظ رہنے کے صر ف چار اسباب ہیں جو اس سورت میں مذکور ہیں یعنی(۱)اللہ اوراس کے رسول پر ایمان(۲)عمل صالح(۳)ایک